Thursday, August 27, 2026 | 12 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • کیا کسی مجرم کو 17 بار پیرول مل سکتی ہے؟ رام رحیم کا معاملہ زیر بحث

کیا کسی مجرم کو 17 بار پیرول مل سکتی ہے؟ رام رحیم کا معاملہ زیر بحث

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 27, 2026 IST

کیا کسی مجرم کو 17 بار پیرول مل سکتی ہے؟ رام رحیم کا معاملہ زیر بحث
ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ کو ایک بار پھر عارضی رہائی مل گئی ہے۔ عصمت دری کے مقدمے میں 20 سال قید کی سزا کاٹ رہے رام رحیم کو 21 دن کی فرلو دی گئی، جس کے بعد انہیں روہتک کی ہائی سکیورٹی سناریا جیل سے رہا کر دیا گیا۔ اگست 2017 میں سزا سنائے جانے کے بعد سے اب تک رام رحیم کو مجموعی طور پر 17 مرتبہ پیرول یا فرلو دی جا چکی ہے، اور وہ تقریباً 435 دن جیل سے باہر گزار چکے ہیں۔ منگل کی صبح تقریباً 6 بجے رام رحیم سخت سکیورٹی کے درمیان سناریا جیل سے باہر نکلا۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ رہائی اس کی گزشتہ 30 روزہ پیرول مکمل ہونے کے دو ماہ سے بھی کم عرصے بعد سامنے آئی ہے۔ رام رحیم جون 2026 میں اپنی پیرول مکمل کرکے واپس جیل گیا تھا اور اب اگست کے آخر میں اسے 21 دن کی فرلو دے دی گئی۔
 
رام رحیم کو اگست 2017 میں اپنی دو خواتین عقیدت مندوں کے ساتھ عصمت دری کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے اسے دو الگ الگ مقدمات میں 10، 10 سال، یعنی مجموعی طور پر 20 سال کی سخت قید کی سزا سنائی تھی۔ تب سے وہ ہریانہ کے روہتک میں واقع سناریا جیل میں سزا کاٹ رہا ہے۔ رام رحیم کو ملنے والی عارضی رہائیوں کی فہرست بھی خاصی طویل ہے۔ اکتوبر 2020 میں اسے ایک دن کے لیے اپنی بیمار ماں سے ملنے کی اجازت ملی۔ مئی 2021 میں 12 گھنٹے کی عارضی رہائی دی گئی۔ اس کے بعد فروری 2022 سے پیرول اور فرلو کا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ جون اور اکتوبر 2022، جنوری اور جولائی 2023، نومبر 2023، جنوری اور اکتوبر 2024، جنوری، اپریل اور اگست 2025 اور مئی 2026 میں بھی اسے مختلف مدت کے لیے جیل سے باہر رہنے کی اجازت دی گئی۔
 
رام رحیم کی بار بار عارضی رہائی نے ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عام طور پر عصمت دری اور قتل جیسے سنگین جرائم میں سزا یافتہ قیدیوں کے لیے پیرول یا فرلو حاصل کرنا آسان نہیں سمجھا جاتا۔ بہت سے قیدیوں کو عارضی رہائی کے لیے طویل قانونی اور انتظامی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہریانہ میں قیدیوں کی عارضی رہائی کا نظام ریاستی قوانین کے تحت چلتا ہے، جہاں مخصوص شرائط پوری کرنے والے قیدی پیرول یا فرلو کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ تاہم رام رحیم کو بار بار ملنے والی اس رعایت نے عوامی اور سیاسی حلقوں میں بحث کو دوبارہ تیز کر دیا ہے۔
 
اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ایک سنگین جرم میں سزا یافتہ بااثر شخص کو اتنی بار عارضی رہائی ملنا واقعی معمول کی بات ہے، یا پھر ہندوستان کے پیرول اور فرلو نظام میں شفافیت اور یکساں اصولوں کی ضرورت ہے؟