• News
  • »
  • قومی
  • »
  • مرکز نے مطالبات تسلیم کرلیے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاج ختم کردیا

مرکز نے مطالبات تسلیم کرلیے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاج ختم کردیا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 25, 2026 IST

مرکز نے مطالبات تسلیم کرلیے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاج ختم کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)، جو NEET پیپر لیک کے معاملے پر گزشتہ چند ہفتوں سے دہلی کے جنتر منتر پر جاری اپنے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سی جےپی نمائندوں نے اعلان کیا کہ یہ فیصلہ حکومت کی طرف سے ان کے اہم مطالبات، مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ سمیت دیگر مطالبات کو تسلیم کرنے کے بعد لیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مرکزی وزراء اور  سی جےپی کے نمائندوں نے مشترکہ طور پر ایک پریس کانفرنس کی۔

احتجاج ختم، پرامن طور پر گھر واپس ہوں 

دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد، سی جےپی  کے سرکاری ترجمان سورو داس اور آشوتوش رانکا نے مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے ساتھ بات چیت کا ایک اور دور  منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مذاکرات ختم ہونے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس جذبہ خیر سگالی کے ساتھ فوری طور پر احتجاج ختم کر رہے ہیں کہ حکومت نے ان کے مطالبات مان لیے ہیں اور وہ اپنا وعدہ پورا کرے گی۔ انہوں نے اپنے تمام حامیوں سے پرامن طور پر گھر واپس آنے کا مطالبہ کیا۔

 حکومت نے مطالبات  پورے کئے

 سی جےپی کے رہنماؤں نے انکشاف کیا کہ وزیر کے استعفیٰ کے ساتھ ساتھ حکومت نے کچھ اور اہم یقین دہانیاں بھی کرائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ این ای ای ٹی ایجی ٹیشن کے دوران طلباء کے خلاف درج کئے گئے پو لیس  کیس واپس لے لئے جائیں گے اور مستقبل میں ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ انھوں  نے واضح کیا ہے کہ NEET کے معاملے پر ناراضگی کی وجہ سے خودکشی کرنے والے طلباء کے اہل خانہ کو قواعد کے مطابق زیادہ سے زیادہ معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔

 گھروں کو واپس لوٹنے احتجاجیوں سے اپیل

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سورو داس نے کہا، "حکومت نے ہمارے مطالبات کو تسلیم کر لیا ہے، اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمام لوگ جو احتجاج کر رہے ہیں، اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔" آشوتوش رنکا نے کہا، "36 دن کے احتجاج کے بعد حکومت نیچے آئی ہے۔ ہمارے مطالبات سنجیدہ نہیں ہیں، وہ بہت سادہ ہیں، اب حکومت نے انہیں مان لیا ہے۔"

 یہ مکمل فتح نہیں پہلی جیت ہے 

 ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ یہ ان کی جدوجہد میں صرف پہلی جیت ہے۔ "یہ مکمل فتح نہیں ہے۔ یہ صرف پہلا قدم ہے۔ 21 طلباء کی زندگیوں کے لیے انصاف ہونا چاہیے۔ ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔" انہوں نے واضح کیا۔ وزیر کے استعفے سے جہاں طلبہ کی جدوجہد کو اخلاقی تقویت ملی ہے وہیں طلبہ یونین کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام میں مکمل اصلاحات کے نفاذ تک تحریک نہیں رکے گی۔