سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد بھی جنتر منتر پر سی جے پی کا احتجاج جاری ہے۔ آج جنتر منتر پر ایک بڑی بھیڑ کے جمع ہونے کی امید ہے، اس لیے کہ یہ ویک اینڈ ہے۔ اس لئے ڈی ایم آر سی نے جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے آس پاس کے تقریبا 18 میٹرو اسٹیشنوں کو پہلے ہی بند کر رکھا ہے۔ اس لئے لوگوں کو اس ہفتہ اور اتوار کو جنتر منتر تک پہنچنے کے لیے زیادہ پیسہ خرچ کرنا پڑ سکتا ہے۔
میٹرو اسٹیشن بند ہونے کے بعد جنتر منتر پہنچنے والے بیشتر افراد اب آن لائن کیب سروسز کا سہارا لے رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آن لائن بوکنگ کی وجہ کسے Ola، Uber اور Rapido جیسی کمپنیوں نے کرایوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ماہرین کے مطابق جب کسی مخصوص علاقے میں اچانک مسافروں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور دستیاب گاڑیوں کی تعداد کم رہتی ہے تو رائیڈ ہیلنگ پلیٹ فارمز کا خودکار نظام کرایوں میں اضافہ کر دیتا ہے، جسے عام طور پر سرج پرائسنگ کہا جاتا ہے۔
کیب کمپنیاں فی الحال جنتر منتر کے سفر کے لیے کتنا کرایہ وصول کر رہی ہیں؟
غازی آباد سے جنتر منتر تک موجودہ کرایے
موٹر سائیکل: 250 سے 300 روپے
اکنامی کیب: 500 سے 550 روپے
پریفرڈ کیب: 600 سے 650 روپے
پریمیم کیب: 650 سے 700 روپے
XL کیب: 900 سے 1000 روپے
نوئیڈا سے جنتر منتر تک کرایے
موٹر سائیکل: 200 سے 250 روپے
آٹو: 300 سے 350 روپے
اکنامی کیب: 450 سے 500 روپے
پریفرڈ کیب: 500 سے 550 روپے
پریمیم کیب: 550 سے 650 روپے
XL کیب: 750 سے 800 روپے
گروگرام سے جنتر منتر تک کرایے
موٹر سائیکل: 350 سے 400 روپے
اکنامی کیب: 550 سے 600 روپے
پریفرڈ کیب: 580 سے 650 روپے
پریمیم کیب: 600 سے 750 روپے
XL کیب: 850 سے 900 روپے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مسافر اخراجات کم رکھنا چاہتے ہیں تو وہ میٹرو کے ذریعے جنتر منتر کے قریب کسی ایسے اسٹیشن تک سفر کریں جو کھلا ہو، اور وہاں سے آٹو یا مختصر فاصلے کی کیب استعمال کریں۔ اگرچہ اس طریقے سے سفر میں کچھ اضافی وقت لگ سکتا ہے، لیکن مکمل کیب بک کرنے کے مقابلے میں اخراجات کم ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب، پولیس اور انتظامیہ نے احتجاج کے پیش نظر جنتر منتر اور اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے، جبکہ شہریوں کو سفر سے پہلے ٹریفک اور میٹرو سے متعلق تازہ معلومات حاصل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔