Tuesday, April 21, 2026 | 03 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • بنگال میں فرسٹ فیزپولنگ کیلئےمہم ختم: 152 سیٹوں پر 23 اپریل کو ڈالیں جائیں گے ووٹ

بنگال میں فرسٹ فیزپولنگ کیلئےمہم ختم: 152 سیٹوں پر 23 اپریل کو ڈالیں جائیں گے ووٹ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 21, 2026 IST

بنگال میں فرسٹ فیزپولنگ کیلئےمہم ختم: 152 سیٹوں پر 23 اپریل کو ڈالیں جائیں گے ووٹ
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے انتخابی مہم منگل کی شام 6 بجے تھم گئی۔ جس کے بعد ریاست میں 48 گھنٹوں کی خاموشی شروع ہو گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں شمالی بنگال اور جنوبی اضلاع کے 152 حلقوں میں 23 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس مرحلے میں تقریباً 3.60 کروڑ ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے، جن میں 1.84 کروڑ مرد، 1.75 کروڑ خواتین اور 465 تیسری جنس کے ووٹر شامل ہیں۔

  سیکورٹی کےسخت انتظامات

انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے کمیشن نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ تقریباً 2,450 کمپنیوں پر مشتمل مرکزی نیم فوجی دستے، جن کی تعداد تقریباً 2.5 لاکھ اہلکاروں پر مشتمل ہے، تعینات کیے گئے ہیں۔ 8 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے جبکہ مالدہ، مرشد آباد، اتر دیناج پور، کوچ بہار، بیر بھوم اور بردوان اضلاع کو انتہائی حساس قرار دے کر کڑی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

ٹی ایم سی اور بی جےپی کی ٹکر 

سیاسی میدان میں حکمراں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) مسلسل چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کو ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس انتخابی مرحلے میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (SIR) بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے، جس کے دوران لاکھوں نام حذف کیے جانے پر تنازع کھڑا ہوا۔

 ٹی ایم سی کا بی جےپی پر الزام 

ٹی ایم سی نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی نے ووٹر لسٹ میں مداخلت کی ہے، جبکہ بی جے پی نے ریاست میں بدعنوانی، سیاسی تشدد اور دراندازی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ دونوں جماعتوں نے عوام کو لبھانے کے لیے متعدد وعدے بھی کیے ہیں۔

 اہم امیدوار انتخابی میدان میں 

اہم امیدواروں میں بی جے پی کے سوندو ادھیکاری (نندی گرام)، نشیت پرمانک (ماتھا بھانگا)، ٹی ایم سی کے ادیان گہا (دینہاتا)، گوتم دیب (سلی گڑی) اور کانگریس کے ادھیر رنجن چودھری (بہرام پور) شامل ہیں۔

 انتخابی مہم کے دوران کئی موضو زیر بحث 

انتخابات کے دوران گورکھالینڈ کا مطالبہ، چائے باغان مزدوروں کی اجرت، بنیادی ڈھانچے کی کمی اور زرعی مسائل جیسے اہم موضوعات بھی زیر بحث رہے۔پہلے مرحلے کے انتخابات سخت سیکیورٹی اور سیاسی گرما گرمی کے ماحول میں منعقد ہوں گے، جہاں تمام نظریں نتائج پر مرکوز ہیں۔

 مغربی بنگال میں ایم آئی ایم کی انٹری 

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) نے اپریل 2026 میں ہونے والے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے لیے  ابتدائی طور پر 12 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔ مجلس نے زیادہ تر ان حلقوں پر توجہ مرکوز کی ہے جہاں مسلم آبادی کا تناسب زیادہ ہے، خاص طور پر مرشد آباد، مالدہ، اور بیر بھوم جیسے اضلاع میں پارٹی اپنے امیدواروں کو  میدان میں  اتارا ہے۔

ہمایوں کبیرکی پارٹی سے اتحاد ختم 

ابتدا میں مجلس نے ہمایوں کبیر کی پارٹی 'عام جنتا اونین پارٹی' (AJUP) کے ساتھ اتحاد کیا تھا، لیکن اپریل 2026 کے وسط میں ایک متنازع ویڈیو سامنے آنے کے بعد اویسی نے یہ اتحاد ختم کر دیا اور اب پارٹی تنہا انتخابات لڑ رہی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق مجلس مجموعی طور پر 17 سے 18 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پارٹی صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی خود ان علاقوں میں مہم چلا رہے ہیں، جن میں مرشد آباد اور رانی گنج (بردھامن) شامل ہیں، تاکہ مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کو مضبوط کیا جا سکے۔ 
 
مغربی بنگال میں پولنگ دو مرحلوں میں 23 اپریل اور 29 اپریل 2026 کو ہوگی، جبکہ نتائج کا اعلان 4 مئی 2026 کو کیا جائے گا۔