تلنگانہ میں سرکاری ٹرانسپورٹ نظام کو بڑا دھچکا لگنے کا امکان ہے، کیونکہ ٹی جی ایس آر ٹی سی (تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن) کے ملازمین نے آج منگل کی آدھی رات سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ حکومت اور ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) کے درمیان تقریباً چار گھنٹے طویل مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا گیا۔
ملازمین کی اس ہڑتال کے باعث 22 اپریل سے ریاست بھر میں بس خدمات شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے حیدرآباد سمیت لاکھوں یومیہ مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام نے متبادل ٹرانسپورٹ انتظامات پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، جے اے سی نے 32 مطالبات کے حق میں یہ قدم اٹھایا ہے، جن میں آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنا، تنخواہوں میں نظرثانی، یونین انتخابات، بقایا جات کی ادائیگی اور ملازمین کی فلاح و بہبود سے متعلق مسائل شامل ہیں۔
جے اے سی کے چیئرمین ایڈورو وینکنا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام یونینوں نے ہڑتال کی مکمل حمایت کی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت اور آر ٹی سی انتظامیہ نے مذاکرات کے لیے سنجیدگی نہیں دکھائی اور 41 دن قبل دی گئی ہڑتال کی نوٹس کے باوجود کوئی خاطر خواہ ردعمل نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے انتخابی منشور میں آر ٹی سی کو ضم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب اس مسئلے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے کمیٹی تشکیل دینا صرف تاخیری حربہ ہے۔
وینکنا نے مزید الزام لگایا کہ الیکٹرک بسوں کے نام پر حیدرآباد ڈپو کے ملازمین کو اضلاع میں منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے ملازمین میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پر آر ٹی سی کو کمزور کرنے اور نجکاری کی طرف لے جانے کی سازش کا بھی الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہا، “ملازمین کو ڈرنے کی ضرورت نہیں، ہم اپنی جائز مطالبات کے لیے ہڑتال کریں گے۔”
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہڑتال کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد آر ٹی سی انتظامیہ نے جے اے سی رہنماؤں کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دی، تاہم اس کا وقت اور مقام ابھی طے نہیں کیا گیا۔
موجودہ صورتحال کے پیش نظر ریاست میں ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے