کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی 26 فروری سے ہندوستان کا دورہ کرنے والے ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی آئے گی۔ گذشتہ انتظامیہ کے دور میں تعلقات کشیدہ ہونے کے بعد کسی کینیڈین رہنما کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔ کینیڈین وزیر اعظم کے دفتر کے ایک بیان میں بتایا گیاہے کہ کارنی 2 مارچ کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اعلیٰ سطحی بات چیت کیلئے نئی دہلی جانے سے پہلے کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کیلئے ممبئی سے اپنا سفر شروع کریں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں رہنما صاف توانائی، مصنوعی ذہانت، دفاع اور ٹکنالوجی میں نئی شراکت داریوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔ اس نے کہا کہ اس دورہ کا بڑا مقصد جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے کیلئے مذاکرات کو تیز کرنا ہے۔ کینیڈا کے پی ایم او نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے اور عالمی تجارت اور ٹیکنالوجی میں ایک پاور ہاؤس ہے۔
70 ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارت کا ہدف
وزیراعظم نریندر مودی جون 2025 میں مارک کارنی کی دعوت پر جی-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے کینیڈا پہنچے تھے۔ کینیڈین وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کینیڈا اپنی معیشت کو مضبوط اور خود کفیل بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔ حکومت ملک کو اندرونی طور پر مستحکم کرنے، بیرونِ ملک تجارت بڑھانے اور بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
2024 میں بھارت، کینیڈا کا ساتواں بڑا تجارتی شراکت دار تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان اشیا اور خدمات کی دوطرفہ تجارت تقریباً 30.8 سے 31 ارب ڈالر رہی۔ 2025 کے جی-20 سربراہی اجلاس میں دونوں ممالک نے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (CEPA) پر باضابطہ مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کا مقصد 2030 تک دوطرفہ تجارت کو بڑھا کر 70 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔