ایران–اسرائیل جنگی صورتحال اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبروں کے بعد بھارت میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا ہے کہ بیرون ملک پھنسے کنڑا باشندوں کی بحفاظت واپسی کے لیے سفارت خانوں سے رابطے جاری ہیں، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کی کشیدہ صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
ملک میں ہائی الرٹ
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبروں کے بعد بھارتی حکومت نے ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ مرکزی وزیر برائے خوراک و عوامی تقسیم پرہلاد جوشی نے کہا ہے کہ ایران–اسرائیل جنگی حالات کے باعث بیرون ملک پھنسےباشندوں کی بحفاظت واپسی کے لیے حکومت مکمل طور پر تیار ہے۔
بھارتی سفارت خانوں کے اعلیٰ حکام کی بات چیت
دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرہلاد جوشی نے بتایا کہ بھارتی سفارت خانوں کے اعلیٰ حکام سے اس سلسلے میں بات چیت ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں اگر بھارتی شہری مشکلات کا سامنا کریں تو مرکزی حکومت انہیں محفوظ وطن واپس لانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرتی ہے۔ انہوں نے یوکرین سے بھارتی شہریوں کے کامیاب انخلا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
فضائی بندش کی وجہ سے کئی افراد پھنسے
انہوں نے کہا کہ ایران–اسرائیل تنازع کے باعث کئی کنڑا باشندے، خصوصاً دبئی اور متحدہ عرب امارات میں، فضائی حدود کی بندش کے سبب پھنس گئے ہیں۔ پروازوں کی معطلی کے باعث صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے، تاہم ماہرین کے مشورے سے محفوظ انخلا کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے اہل خانہ سے اپیل کی کہ وہ گھبرائیں نہیں، حکومت ہر شہری کی حفاظت کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
کرناٹک حکومت نے بھی ایمرجنسی رسپانس سسٹم فعال
ادھر کرناٹک حکومت نے بھی ایمرجنسی رسپانس سسٹم فعال کر دیا ہے۔ ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین کرشنا بائرے گوڑا کے مطابق ایران، اسرائیل، لبنان، سعودی عرب، بحرین، عمان، عراق، اردن، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر کی فضائی حدود عارضی طور پر بند کیے جانے سے بین الاقوامی پروازوں میں شدید خلل پیدا ہوا ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں مسافر متاثر ہوئے ہیں۔
ملک کے مختلف علاقوں میں مظاہرے
دوسری جانب آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کی خبروں کے بعد دہلی، لکھنؤ اور سری نگر سمیت بعض شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ خفیہ اداروں نے خبردار کیا ہے کہ بعض شدت پسند عناصر مذہبی اجتماعات کو اشتعال انگیز تقاریر کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس تناظر میں وزارت داخلہ نے تمام ریاستوں کو سکیورٹی سخت کرنے اور حساس علاقوں میں نگرانی بڑھانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک
وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ہمیشہ امن اور استحکام کا حامی رہا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے زور دیا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، اور تمام تنازعات کا حل سفارتی بات چیت کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
بھارتی شہریوں کی سلامتی حکومت کی کوشش
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مغربی ایشیا میں مقیم لاکھوں بھارتی شہریوں کی سلامتی پر حکومت مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ ممالک کی حکومتوں سے رابطے جاری ہیں تاکہ ہر بھارتی شہری کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔