ذیابیطس صرف خون میں شوگر کی زیادتی تک محدود بیماری نہیں بلکہ یہ آہستہ آہستہ جسم کے اعصاب اور خون کی نالیوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اسی وجہ سے پاؤں میں لگنے والی معمولی سی چوٹ بھی سنگین زخم کی صورت اختیار کر سکتی ہے جسے طبی زبان میں "ڈایابیٹک فُٹ السر" کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت سمیت دنیا بھر میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث یہ پیچیدگی بھی عام ہوتی جا رہی ہے۔ منصف ٹی وی کےخاص پروگرام ہیلتھ اور ہم میں سینئر ویسکولر اینڈ اینڈو ویسکولر سرجن، یشودا ہسپتال۔ سکندرآباد۔ ڈاکٹر ونے کمار کوٹاوینوکا "ذیابیطس کے پاؤں کے السر اور علاج کے جدید طریقوں" کے موضوع پر گفتگو کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے ذیابیطس میں مبتلا افراد، خصوصاً پانچ سے دس سال یا اس سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد، اعصابی کمزوری (ڈایابیٹک نیوروپیتھی) کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کیفیت میں پاؤں کی حساسیت کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث چوٹ یا زخم کا بروقت احساس نہیں ہو پاتا۔ نتیجتاً معمولی زخم بھی انفیکشن میں تبدیل ہو کر گہرا السر بن سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق پاؤں میں سن ہونا، جلن کا احساس، سوجن، سرخی، جلد میں دراڑیں پڑنا یا زیادہ گرم محسوس ہونا ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔ اگر شوگر کنٹرول میں نہ ہو تو بیکٹیریا تیزی سے پھیلتے ہیں اور زخم ٹھیک ہونے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ بعض صورتوں میں انفیکشن ہڈی تک پہنچ سکتا ہے جسے آسٹیومائیلائٹس کہا جاتا ہے، اور شدید حالت میں انگلی یا پاؤں کا کچھ حصہ کاٹنے کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔
تشخیص کے لیے ڈاکٹر جسمانی معائنہ کے ساتھ خصوصی ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں، جن میں فُٹ اسکین، بایو تھسیومیٹر ٹیسٹ (گرم، ٹھنڈا اور وائبریشن کا احساس جانچنے کے لیے) اور خون کی روانی چیک کرنے کے لیے انجیوگرام شامل ہیں۔ اگر خون کی گردش کم ہو تو انجیو پلاسٹی کے ذریعے اسے بہتر بنایا جاتا ہے تاکہ زخم جلد بھر سکے۔
علاج کا انحصار السر کی شدت پر ہوتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں زخم کی صفائی، خصوصی ڈریسنگ اور پریشر کم کرنے کے لیے خاص جوتے تجویز کیے جاتے ہیں۔ گہرے اور پیچیدہ زخموں میں ویکیوم تھراپی (نیگیٹو پریشر وونڈ تھراپی)، ہائپربارک آکسیجن تھراپی اور بعض کیسز میں اسٹیم سیل تھراپی بھی مفید ثابت ہو رہی ہے۔ اگر زخم تقریباً بھر چکا ہو مگر جلد مکمل نہ بنی ہو تو اسکن گرافٹنگ کے ذریعے عمل تیز کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ احتیاط سب سے اہم ہے۔ ذیابیطس کے مریض روزانہ سونے سے پہلے آئینے کی مدد سے اپنے پاؤں کا معائنہ کریں، جلد کو خشک ہونے سے بچانے کے لیے موئسچرائزر استعمال کریں اور معمولی زخم کو بھی نظر انداز نہ کریں۔ شوگر کنٹرول میں رکھنا نہایت ضروری ہے، جس کے لیے ایچ بی اے ون سی ٹیسٹ ہر تین ماہ بعد کرانا چاہیے اور اسے 6.5 فیصد سے کم رکھنا بہتر ہے۔
یاد رکھیں، ڈایابیٹک فُٹ السر ایک سنجیدہ مسئلہ ہے مگر بروقت تشخیص، مناسب علاج اور باقاعدہ احتیاط سے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ صحت آپ کی ذمہ داری ہے، اس لیے کسی بھی علامت کو معمولی نہ سمجھیں اور فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اس موضوع پر ڈاکٹر کی مکمل بات چیت آپ یہاں اس ویڈیو میں بھی دیکھ سکتےہیں۔