Friday, January 23, 2026 | 04, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • نیتا جی سبھاش چندر بوس کی 129ویں سالگرہ پر وزیر اعلی ممتا بنرجی کا جذباتی پوسٹ

نیتا جی سبھاش چندر بوس کی 129ویں سالگرہ پر وزیر اعلی ممتا بنرجی کا جذباتی پوسٹ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 23, 2026 IST

نیتا جی سبھاش چندر بوس کی 129ویں سالگرہ  پر وزیر اعلی ممتا بنرجی کا جذباتی پوسٹ
آج یعنی 23 جنوری کو نیتا جی سبھاش چندر بوس کی 129ویں سالگرہ ہے۔ اس موقع پر ملک بھر کے کئی رہنما انہیں یاد کر رہے ہیں۔ اس دوران مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی 'نیتا جی ' کے بارے میں ایک جذباتی پوسٹ کی ۔ممتا بنرجی نے کہا کہ دیش بھکت نیتا جی  سبھاش چندر بوس کی سالگرہ پر میں انہیں دل سے سلام پیش کرتی ہوں اور خراج عقیدت پیش کرتی ہوں۔ نیتا جی  بنگال، پورے ملک اور پوری دنیا کے لیے ایک جذبہ ہیں۔ لوگ انہیں کبھی نہیں بھولیں گے۔
 
سی ایم ممتا نے اپنے ایکس پوسٹ میں لکھا،وہ جانتے تھے کہ ملک کا مطلب صرف ہندو ،مسلمان نہیں ہے۔ ملک کا مطلب ہے مرد، عورتیں، ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، پنجابی، تامل، گجراتی، بنگالی سب ہیں۔
 
نیتا جی کے لاپتہ ہونے کا راز اب تک حل نہیں ہوا :
 
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جمعہ کونیتا جی سبھاش چندر بوس کی سالگرہ پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور مرکزی حکومت سے اس عظیم آزادی پسند سے متعلق تمام باقی دستاویزات کو عوامی کرنے کی اپیل کی۔بنرجی نے کہا کہ دہائیوں گزر جانے کے باوجودنیتا جی کے لاپتہ ہونے کا راز اب تک حل نہیں ہوا ہے۔
 
انہوں نے کہا،یہ ہم سب کے لیے بدقسمتی کی بات ہے کہ نیتا جی کے لاپتہ ہونے کا راز آج تک حل نہیں ہوا۔ 1945 کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوا، یہ ہم نہیں جانتے۔ یہ سب کے لیے انتہائی دکھ کی بات ہے۔بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال حکومت نےنیتا جی سبھاش چندر بوس سے متعلق تمام ریاستی سطح کی فائلیں بہت پہلے ہی عوامی کر دی تھیں۔انہوں نے کہا، میں بھارت حکومت سے ایک بار پھر اپیل کرتی ہوں کہ نیتا جی سے متعلق تمام معلومات کو عوامی کیا جائے۔
 
سیکولرزم اور بھائی چارے کی علامت تھی آزاد ہند فوج:
 
بنگال کی وزیر اعلی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ،نیتا جی  کی آزاد ہند فوج سیکولرزم اور بھائی چارے کی علامت تھی۔ جہاں ہندو-مسلمان، سکھ-عیسائی، امیر-غریب، مرد-عورتیں، تمام نسلیں، مذاہب، ذات پات اور برادریوں کے لوگ ملک کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر لڑے۔مغربی بنگال کی سی ایم نے کہا کہ اگر ہم واقعی نیتا جی  کا احترام کرنا چاہتے ہیں تو ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اتحاد، بھائی چارے اور ہم آہنگی کے ان کے اصولوں پر چلیں۔ ذات، مذہب یا جنس سے بالاتر، ہم سب بھارتی ہیں، یہی ہماری شناخت ہے۔
 
سی ایم ممتا نے آگے کہا- ہماری حکومت نے ان کی یاد میں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ علی پور میوزیم میں جیل میں جس سیل میں نیتا جی  رہتے تھے، اسے ٹھیک کرکے عام لوگوں کے دیکھنے کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
 
موبائل/ٹیب خریدنے کے لیے 10,000 روپے دے رہی ہے ممتا حکومت:
 
ممتا نے کہا کہ نیتا جی  سبھاش چندر بوس پر ایک ایگزیبیشن لگائی گئی ہے، ان کی کتاب 'ترونیر سوپنو' کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے اور بھی بہت کچھ کیا گیا ہے اور کیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں، نیتا جی  کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہم نے 'ترونیر سوپنو'نام کا ایک پروجیکٹ بھی شروع کیا ہے، جس میں ریاستی حکومت سرکاری سکولوں کے گیارہویں کلاس کے طلبہ کی سہولت کے لیے موبائل/ٹیب خریدنے کے لیے 10,000 روپے دیتی ہے۔
 
مرکزی حکومت سے سی ایم ممتا نے کیا کی بڑی اپیل؟
 
اسی طرح مرکزی حکومت سے اپیل کرتے ہوئے سی ایم ممتا نے کہا کہ یہ ہم سب کے لیے افسوس کی بات ہے کہ نیتا جی  کے گمشدہ ہونے کا راز آج تک حل نہیں ہو سکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں پتہ کہ 1945 کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوا۔ یہ سب کے لیے بہت دکھ کی بات ہے۔ لیکن ہم نے بہت پہلے ہی تمام سرکاری فائلیں عوامی کر دی ہیں۔ میں ایک بار پھر بھارت حکومت سے نیتا جی  سے متعلق تمام معلومات کو ڈی کلاسفائی کرنے کی اپیل کروں گی۔