گھر صابن کے اشتہار کے تنازع پر اداکار علی نے معافی مانگ لی
اشتہار میں ہندوؤں کے جذبات مجروح ہونے تھا الزام
سوشل میڈیا پر اپوزیشن اور بائیکاٹ کی کالیں بھڑک اٹھیں
علی نے کمپنی سے متنازع اشتہار کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا
کسی کو ناراض کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا: علی کا ویڈیو پیغام
ٹالی ووڈ کے سینئر کامیڈین علی کے اشتہار سے تنازع ہو گیا تھا۔ تلگو کامیڈین نے ہندو برادری اور ہر اس شخص سے جن کے جذبات کو ٹھیس پہنچی، عوامی طور پر معافی مانگی ہے۔ علی نے یہ وضاحت گھر صابن کے اپنے اشتہار میں ہندو مذہبی عقائد کی توہین کرنے پر شدید تنقید کے بعد کی ہے۔
کیا ہے پورا معاملہ ؟
گھرصابن کےاشتہارمیں اداکار علی کو پوجا کے کمرے میں بیٹھے صابن کے بار میں لکشمی پوجا کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ پھولوں اور دیگر پوجا سامان کے ساتھ صابن کی پوجا کرنا، اور پس منظر میں دیوی لکشمی سے متعلق بھکت گیت سننے پر سخت اعتراضات ہوئے۔ کئی ہندو گروپس اور نیٹیزین نے الزام لگایا ہے کہ مقدس لکشمی پوجا کو تجارتی مقاصد کے لیے صابن کی ایک مصنوعات کے لیے استعمال کرنا ہندو رسومات کا مذاق اڑانا ہے۔
تنازع بڑھنے پرعلی کی وضاحت
اس اشتہار کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس کی شدید مخالفت کی گئی۔ بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ تجارتی مقاصد کے لیے مذہبی عقائد کی توہین کرنا درست نہیں ہے۔ تنازعہ بڑھنے پر علی کو جواب دینا پڑا۔
علی کا ویڈیو پیغام
اسی تناظر میں علی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے اپیل کی کہ "اگر میرے اشتہار سے کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو مجھے معاف کر دیں، میرا مقصد کبھی کسی مذہب یا ان کے عقائد کی توہین کرنا نہیں تھا۔" علی نے وضاحت کی کہ یہ اشتہار ایک پرانی فلم کے ایک سین سے متاثر ہو کر کیا گیا ہے۔
اشتہارکو فوری ہٹانے کمپنی سے علی درخواست
تاہم انہوں نے گھر صابن کی انتظامیہ سے لوگوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اشتہار کو فوری طور پر ہٹانے کی درخواست کی تھی۔ اگرچہ علی کے معافی مانگنے کے بعد یہ تنازع کسی حد تک تھم گیا لیکن یہ واقعہ ایک بار پھر اشتہارات میں مذہبی موضوعات کے استعمال پر بحث کا باعث بنا ہے۔