کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ محمد جاوید نے لوک سبھا میں ایک قرارداد پیش کرتے ہوئے اسپیکر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ قرارداد میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کے دوران غیر جانبداری برقرار نہیں رکھی۔ محمد جاوید کا کہنا ہے کہ لوک سبھا کے اسپیکر کا منصب آئینی طور پر غیر جانبدار ہونا چاہیے اور ایوان کی کارروائی کو منصفانہ انداز میں چلانا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ اوم برلا کو اسپیکر کے عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر ایوان میں باضابطہ بحث کرائی جائے۔
ادھر کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ دھرم ویر گاندھی نے حکومتِ ہند پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس وقت دنیا کے ایک اہم مسئلے یعنی ایران ، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے عملاً امریکہ اور اسرائیل کے محور کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور اپنے دیرینہ دوست ایران کو نظر انداز کر دیا ہے۔ دھرم ویر گاندھی نے یاد دلایا کہ ماضی میں ایران نے بھارت کے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا، چاہے وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگیں ہوں یا بنگلہ دیش کے قیام کا مرحلہ۔
دریں اثنا کانگریس کے ایک اور رکنِ پارلیمنٹ طارق انور نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ملک میں ایندھن اور گیس کی ممکنہ قلت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران پر حملوں کے بعد پورے علاقے میں بدامنی پھیل گئی ہے، جس کے باعث گیس، پیٹرول اور ڈیزل کے بحران کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
طارق انور نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت نے پہلے یقین دہانی کرائی تھی کہ ملک میں ایندھن کا وافر ذخیرہ موجود ہے، لیکن موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ یقین دہانی مکمل طور پر درست نہیں تھی۔ ان کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات بھارت سمیت کئی ممالک کی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر پڑ سکتے ہیں۔