Sunday, September 13, 2026 | 29 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • چینی صدر سے پی ایم مودی کی ملاقات پر کانگریس کےحکومت سے سوال

چینی صدر سے پی ایم مودی کی ملاقات پر کانگریس کےحکومت سے سوال

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Sep 13, 2026 IST

چینی صدر سے پی ایم مودی کی ملاقات پر کانگریس کےحکومت سے سوال
کانگریس نے اتوار کے روز وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہوئی  دوطرفہ ملاقات پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کا چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کیا نقطۂ نظر ہے اور پڑوسی ملک سے متعلق پالیسی پر اس کے دعووں اور عملی اقدامات میں واضح تضاد نظر آتا ہے۔

 چین کے سامنے ’مرحلہ وار پسپائی‘

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایک تفصیلی پریس نوٹ میں مودی حکومت پر چین کے سامنے ’مرحلہ وار پسپائی‘ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج رمیش نے 2020 میں بھارت-چین سرحدی جھڑپوں کے بعد وزیر اعظم مودی کے دیے گئے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ بھارت نے مشرقی لداخ کے بعض علاقوں میں چین کے سامنے اپنی روایتی گشت اور مویشی چرانے کے حقوق سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔

چین کی مبینہ علاقائی پیش قدمی پر بھی تشویش

انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم مودی کا 19 جون 2020 کا یہ بیان کہ بھارتی علاقے میں کوئی داخل نہیں ہوا تھا، گلوان وادی کی جھڑپوں کے بعد بھارت کی مذاکراتی پوزیشن کو کمزور کرنے کا باعث بنا؟رمیش نے لداخ اور اروناچل پردیش میں چین کی مبینہ علاقائی پیش قدمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

 اروناچل پردیش پر چین کا رویہ مزید سخت 

کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا، ’’اروناچل پردیش میں چینی دراندازی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں بھارت کی جانب سے بعض گشتی مقامات تک رسائی کھونے اور نئے تعطل کا سامنا کرنا بھی شامل ہے۔ اروناچل پردیش کے حوالے سے چین کا رویہ مزید سخت ہوا ہے۔ وہ قصبوں کے نام تبدیل کر رہا ہے، جس علاقے کو وہ ’جنوبی تبت‘ کہتا ہے، اس پر اپنے دعوے دہرا رہا ہے اور برہم پتر کی گریٹ بینڈ پر 60,000 میگاواٹ کے میڈوک میگا ڈیم منصوبے پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ یہ منصوبہ ہمارے پورے شمال مشرق کی آبی سلامتی پر چین کی گرفت مضبوط کر سکتا ہے۔‘‘

 پی ایم مودی کی  یقین دہانی کے بعد بیان

رمیش کا یہ بیان وزیر اعظم مودی کی جانب سے چینی صدر کو یہ یقین دہانی کرائے جانے کے ایک دن بعد آیا کہ سرحد پر امن اور سکون دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے قیام کا ایک ’ضروری جزو‘ ہے۔

 مودی حکومت کے موقف میں نرمی 

کانگریس رہنما نے آپریشن سندور کے دوران چین کی جانب سے پاکستان کی مبینہ حمایت کے معاملے پر مودی حکومت کے موقف میں ’نرمی‘ پر بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ کیا چینی صدر کی میزبانی سے قبل ماحول کو بہتر بنانے کے لیے یہ کسی حکمت عملی کا حصہ تھا؟

پاکستان کو چین کی مدد پر اظہار تشویس

رمیش نے کہا، ’’4 جولائی 2025 کو ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے عوامی طور پر آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی مدد میں چین کے گہرے اور اہم کردار کے بارے میں فوجی قیادت کے جائزے کا ذکر کیا تھا۔ لیکن اچانک 25 اگست 2026 کو سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے ویویکانند انٹرنیشنل فاؤنڈیشن (VIF) میں ایک لیکچر کے دوران بالکل مختلف موقف اختیار کیا۔ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر بھی اس ادارے سے قریبی طور پر وابستہ رہے ہیں۔‘‘

تجارتی خسارے پر بھی تنقید 

رمیش نے چین کے ساتھ بھارت کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا، ’’آپ نے چین کے ساتھ تجارتی خسارے کو ریکارڈ سطح تک کیوں پہنچنے دیا؟ 2025-26 میں بھارت کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ ریکارڈ 112.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس سے ہماری صنعت، خصوصاً چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں (MSMEs)، بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اہم خام مال، صنعتی پرزہ جات اور درمیانی مصنوعات کے لیے چین پر انحصار خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔‘‘

 مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہے؟

انہوں نے حکومت سے یہ بھی سوال کیا کہ اس ناقابل قبول صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے اس کا مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہے۔