Sunday, September 13, 2026 | 29 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • کم عمری میں گھٹنوں اور کمر کا درد کیوں بڑھ رہا ہے؟

کم عمری میں گھٹنوں اور کمر کا درد کیوں بڑھ رہا ہے؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Sep 13, 2026 IST

کم عمری میں گھٹنوں اور کمر کا درد کیوں بڑھ رہا ہے؟
 گھٹنوں اور کمر کا درد اب صرف عمر رسیدہ افراد کا مسئلہ نہیں رہا۔ نوجوانوں میں بھی مسلسل کمر درد، گھٹنوں میں تکلیف، جوڑوں سے آوازیں آنا اور جسمانی کمزوری کی شکایات عام ہوتی جارہی ہیں۔ اس کی وجوہات میں طرز زندگی، جسمانی سرگرمی کی کمی، غلط انداز میں بیٹھنا، موبائل اور کمپیوٹر کا زیادہ استعمال، ورزش کے دوران احتیاط نہ کرنا اور وٹامن ڈی کی کمی جیسے عوامل شامل ہوسکتے ہیں۔ ان مسائل پر منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’’ہیلتھ اور ہم‘‘ میں ڈاکٹر عبداللہ طیب نے تفصیلی روشنی ڈالی۔
 
ڈاکٹر عبداللہ طیب کے مطابق کم عمری میں گھٹنوں کے درد کو محض معمولی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ وزن میں اضافہ، کم جسمانی سرگرمی، پٹھوں کی کمزوری اور ورزش کا غلط طریقہ گھٹنوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اسی طرح گھٹنوں سے ’’کٹ کٹ‘‘ کی آواز آنا ہر بار خطرناک بیماری کی علامت نہیں ہوتی، لیکن اگر اس کے ساتھ درد، سوجن یا چلنے میں دشواری بھی ہو تو طبی معائنہ ضروری ہے۔
 
کمر درد کے بڑھتے ہوئے مسئلے کی ایک بڑی وجہ روزمرہ کی عادات بھی ہیں۔ گھنٹوں ایک ہی پوزیشن میں بیٹھنا، جھک کر موبائل دیکھنا اور جسمانی سرگرمی سے دور رہنا ریڑھ کی ہڈی اور اس سے جڑے پٹھوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔ نوجوانوں میں موبائل اور اسکرین کے مسلسل استعمال کے دوران گردن اور کمر کی پوزیشن درست رکھنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔
 
ڈاکٹر نے وٹامن ڈی کی کمی کی جانب بھی توجہ دلائی۔ وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت کے لیے اہم ہے اور اس کی کمی ہڈیوں اور پٹھوں سے متعلق مسائل میں کردار ادا کرسکتی ہے۔ مناسب دھوپ، متوازن غذا اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کے مشورے سے ٹیسٹ یا سپلیمنٹ کا استعمال فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
جم جانے والے افراد میں بھی ورزش کے دوران چوٹوں کے کیسز سامنے آتے ہیں۔ بہت زیادہ وزن اٹھانا، غلط تکنیک، وارم اپ نہ کرنا اور جسم کی صلاحیت سے زیادہ ورزش کرنا نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے ورزش بتدریج بڑھانا اور درست طریقہ اپنانا ضروری ہے۔
 
ہر گھٹنے یا کمر کے درد کے لیے سرجری ضروری نہیں ہوتی۔ بہت سے مریض مناسب آرام، ادویات، ورزش اور Physiotherapy سے بہتر ہوسکتے ہیں۔ تاہم شدید یا مسلسل درد، سوجن، کمزوری، سن پن یا روزمرہ سرگرمیوں میں نمایاں رکاوٹ کی صورت میں ماہر ڈاکٹر سے معائنہ کرانا چاہیے۔
جہاں سرجری ضروری ہو، وہاں جدید Robotic Surgery بعض مریضوں میں زیادہ درست منصوبہ بندی اور امپلانٹ کی مناسب پوزیشننگ میں مدد فراہم کرسکتی ہے۔ تاہم روبوٹک سرجری کا فیصلہ ہر مریض کی حالت اور ضرورت کے مطابق کیا جاتا ہے۔
 
ماہر کا پیغام واضح ہے کہ ہڈیوں اور جوڑوں کو صحت مند رکھنے کے لیے متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی، صحت مند وزن، درست پوسچر اور ورزش میں احتیاط کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔
 
 قارئین ،ڈاکٹر عبداللہ طیب،کی مکمل گفتگو یہاں👇دیکھ سکتےہیں۔ اورہیلتھ سے جڑے کسی بھی موضوع پر، ہزاروں ویڈیوزمنصف ٹی وی ہیلتھ پر بھی دیکھ سکتےہیں۔