Thursday, January 22, 2026 | 03, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • اسٹارٹ اَپ کمپنیوں کو معاشی ترقی سے مربوط کرنا

اسٹارٹ اَپ کمپنیوں کو معاشی ترقی سے مربوط کرنا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 19, 2026 IST

اسٹارٹ اَپ کمپنیوں کو معاشی ترقی سے مربوط کرنا
آئی وی ایل پی سے استفادہ کرنے والے وجے باورا امریکی کاروباری نظام سے حاصل کردہ عملی بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے ہندوستانی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کو امریکی منڈیوں تک رسائی میں مدد کرکےمشترکہ معاشی ترقی کو فروغ دے رہے ہیں۔ 
 

ظہور حسین بٹ 

 
امریکہ نے بار بار یہ ثابت کیا ہے کہ چھوٹے کاروباروں کے لیے مضبوط معاون نظام معاشی ترقی اور طویل المدتی خوشحالی کو فروغ دیتا ہے۔ حال ہی میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام (آئی وی ایل پی)  کے ذریعے دنیا کے مختلف گوشوں سے آنے والے شرکا، جن میں ہندوستان بھی شامل تھا، نے قریب سے دیکھا کہ امریکی ادارے—وفاقی ایجنسیوں سے لے کر مقامی تنظیموں تک—کس طرح کاروباری افراد کے خیالات کو کامیاب کمپنیوں میں تبدیل کرنے اور دیرپا خوشحالی کا سبب بننے میں عملی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے تبادلہ پروگرام اس لحاظ سے بھی اہم ہوتے ہیں کہ شرکا ءنئی بصیرت، شراکت داریاں اور مواقع اپنے ساتھ لے جاتے ہیں، جو امریکہ کی تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
 
ان ہی شرکا ء میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے اسٹارٹ اپ ماہر وجے باورا  بھی شامل تھے، جنہوں نے آئی وی ایل پی بعنوان ’’معاشی خوشحالی کو آگے بڑھانا: کاروباری سرگرمیاں اور چھوٹے کاروبار کی ترقی‘‘ میں شرکت کی۔ اس پروگرام کے تحت انہوں نے امریکہ کے مختلف شہروں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے قریب سے دیکھا کہ شہری، ریاستی اور وفاقی سطح پر ادارے کس طرح واضح اور متعین کرداروں کے ذریعے کاروبار کے قیام اور فروغ میں معاونت کرتے ہیں۔
 
وجے کو انجینئرنگ، بزنس ڈیولپمنٹ اور اختراعی منصوبوں میں 17 سال کا تجربہ ہے۔ اس دورے سے ان پر یہ بات  واضح ہو گئی کہ امریکی چھوٹے کاروبار معیشت کو کیسے آگے بڑھاتے ہیں۔ وہ امریکہ کے کاروباری نظام کو سمجھ کر واپس آئے اور اب اپنے تجربات کو استعمال کرتے ہوئے ان ہندوستانی بانیوں کی مدد کر رہے ہیں جو امریکی منڈیوں میں اپنا کاروبار بڑھانا چاہتے ہیں۔ سانچی کنیکٹ کے ذریعے وہ اسٹارٹ اپس کو عالمی مواقع تلاش کرنے اور ان تک پہنچنے میں رہنمائی کرتے ہیں، اور یہ کام وہ امریکی بانیوں، رہنماؤں اورجدّت کے ماہرین سے سیکھی گئی باتوں کی بنیاد پر کرتے ہیں۔
 
ایک منظم اور مؤثر نظام
 
وجے کے مطابق، آئی وی ایل پی کے دوران سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ امریکہ نے اپنے اختراعی نظام کو سوچ سمجھ کر اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ اس سے ملکی خوشحالی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور طویل المدتی مسابقت کی صلاحیت برقرار رہے۔ وہ وضاحت کرتے ہیں ’’یہ سب کسی ایک بڑے پروگرام کی وجہ سے نہیں ہوتا جو سب کچھ کر دے، بلکہ یہ ایک طویل سلسلہ ہے جس میں مختلف مربوط حصے شامل ہیں، جیسے یونیورسٹیاں، شہر کے اقتصادی دفاتر، وفاقی معاونت، کارپوریٹ ایکسیلیریٹرس اور مضبوط نجی سرمایہ—سب اپنی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں اور ایک دوسرے پر حاوی ہوئے بغیر کام کرتے ہیں۔‘‘
 
انہوں نے خاص طور پر اس بات پر توجہ دی کہ اس نظام میں ہر چیز کتنی پیش بینی کے ساتھ ترتیب دی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’خواہ  یونیورسٹی لیب ہو، شہر کا اختراعی دفتر ہو یا کوئی وفاقی ادارہ، ہر کسی کو معلوم ہوتا ہے کہ کسی خیال کو تصور سے لے کر صارف تک پہنچانے میں ان کا کیا کردار ہے۔ یہی وضاحت کام کی رفتار اور اعتماد دونوں کو فروغ دیتی ہے۔‘‘ آئی وی ایل پی کے شرکاء  نے دیکھا کہ امریکی اسمال بزنس ایڈمنسٹریشن (ایس بی اے)  اور اسکور جیسے ادارے اس صفت کو کس طرح برقرار رکھتے ہیں۔ ایس بی اے چھوٹے کاروباروں کو مشورہ، سرمایہ اور ٹھیکے حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ اسکور تجربہ کار رہنماؤں کو ابتدائی مرحلے کے بانیوں سے جوڑتا ہے۔
 
امریکی بانیوں سے بات چیت نے وجے کے کاروباری ثقافت  کے فہم کی تشکیل کی ۔ وہ کہتے ہیں ’’ان کا اعتماد شور یا دھوم دھام سے نہیں آتا بلکہ وضاحت اور سمجھ سے آتا ہے۔ وہ اپنا خیال ایک سادہ جملے میں بیان کر سکتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اسے مشکل حالات میں بار بار پرکھا ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات کا بھی مشاہدہ کیا کہ امریکہ میں خطرہ مول لینے کا متوازن رویہ معیشت کو مضبوط بناتا ہے۔ ان کے مطابق ’’وہاں ناکامی کو کسی داغ کے طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ سیکھنے کے ایک ذریعے کے طور پر لیا جاتا ہے۔ رہنما بانیوں سے کڑے سوال اس لیے کرتے ہیں تاکہ ان کی حوصلہ شکنی نہ ہو بلکہ ان کی سوچ کو مزید نکھارا جا سکے۔‘‘
 
بازار میں داخلہ آسان بنانا
 
وجے نے ہندوستانی بانیوں میں ایک واضح رجحان دیکھا جو امریکہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ مضبوط تکنیکی مہارت رکھتے ہیں اور مقابلہ کرنے والی مصنوعات تیار کرتے ہیں، لیکن اکثر امریکی نظام کو سمجھنے میں مشکل کا سامنا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’تکنیکی مہارت تو موجود ہے اور مصنوعات بھی عمدہ ہیں، لیکن قوانین، بھرتی کے عمل، بازار میں داخلہ ، سرکاری مراعات یا گاہکوں کی توقعات اکثر غیر واضح اور مشکل لگتی ہیں۔‘‘ انہوں نے کئی بانیوں سے یہ سنا ’’کاش کسی نے ہمیں شروع میں ہی ایک واضح رہنمائی فراہم کی ہوتی۔‘‘
 
آئی وی ایل پی کے دوران ایک نمایاں بات یہ رہی کہ امریکی ادارے بامعنی شراکت اور رابطے کے لیے کھلے دل سے آمادہ ہوتے ہیں۔ مختلف نشستوں میں شرکا ءکو چھوٹے کاروباروں کے لیے دستیاب قرضہ جاتی پروگراموں، رہنمائی کے نیٹ ورکس، برآمدی معاونت اور بازار سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ٹولس سے روشناس کرایا گیا۔
 
یہی وضاحت وجے کے موجودہ کام کی بنیاد بنی ہے، جس میں امریکی بازار  تک رسائی کے لیے ایک پلے بُک تیار کرنا بھی شامل ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’اب مجھے معلوم ہے کہ کس مقصد کے لیے کس ادارے سے رجوع کرنا چاہیے، مختلف ریاستوں میں مراعات کیسے مختلف ہوتی ہیں، اور وہ ابتدائی غلطیاں کون سی ہیں جو ہندوستانی بانیوں کا سب سے زیادہ وقت اور پیسہ ضائع کرتی ہیں۔‘‘ بانیوں کو امریکی نظام کی بہتر سمجھ بوجھ دینے سے فائدہ دونوں فریقوں کو ہوتا ہے۔ بانی نئے بازار میں داخل ہوتے وقت زیادہ اعتماد محسوس کرتے ہیں، اور امریکہ کو ایسی کمپنیاں ملتی ہیں جو اس کی اختراعی معیشت میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔
 
مشترکہ فائدہ، مشترکہ ترقی
 
ایک ملاقات کے دوران شہر کے معاشی ترقی کے ایک رہنما نے کہا ’’ہم صرف عالمی بانیوں کو خوش آمدید نہیں کہتے، ہم ان کے لیے میدان ہموار بھی کرتے ہیں۔‘‘ یہ جملہ وجے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔ وہ کہتے ہیں ’’اس نے وہ ذہنی رکاوٹ دور کر دی جو بہت سے ہندوستانی اسٹارٹ اپس کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ احساس کہ امریکی مارکیٹ بہت دور یا بہت مشکل ہے۔
 
انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ امریکی ادارے غیر ملکی کمپنیوں کی کس قدر سرگرمی سے مدد کرتے ہیں۔ وہ مراعات سے متعلق رہنمائی، سرپرستی کے نظام، ضابطہ جاتی تعاون اور مقامی نیٹ ورکس جیسے عملی پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’یہ محض رسمی دفاتر نہیں ہوتے؛ یہ عملی طور پر کاروباروں—بشمول غیر ملکی کمپنیوں—کو امریکی بازارسے جوڑنے میں مدد دیتے ہیں۔‘‘
 
وجے کا ماننا ہے کہ ڈیپ ٹیک(جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی نظام)، صحت، صنعت اور نقل و حرکت جیسے شعبوں میں ہندوستان اور امریکہ کو جوڑنے کے واضح فوائد ہیں۔ ان کے مطابق، امریکہ کاروبار کو وسیع پیمانے پر بڑھانے کے مواقع، گہرے سرمایہ جاتی وسائل اور تجارتی شکل دینے کے آزمودہ نظام فراہم کرتا ہے، جبکہ ہندوستان تیز رفتاری اور باصلاحیت افرادی قوت کا حصہ ڈالتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان قوتوں کو یکجا کرنے سے امریکی کمپنیوں کے لیے نئی منڈیاں کھل سکتی ہیں اور سپلائی چین کی مضبوطی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’اس کے معاشی فوائد دونوں سمتوں میں ہوں گے—زیادہ اعلیٰ مہارت والے روزگار، زیادہ مضبوط سپلائی چینس، اور مشترکہ طور پر تیار کی گئی اختراعات کا ایک مسلسل سلسلہ۔‘‘
 

بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی