Thursday, January 22, 2026 | 03, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ٹرمپ کا ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘: کتنے ممالک کی شمولیت، کس نےکیا انکار۔ عالمی سطح پرسوالات اورخدشات

ٹرمپ کا ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘: کتنے ممالک کی شمولیت، کس نےکیا انکار۔ عالمی سطح پرسوالات اورخدشات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 22, 2026 IST

 ٹرمپ کا ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘: کتنے ممالک کی شمولیت، کس نےکیا انکار۔ عالمی سطح پرسوالات اورخدشات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قیام میں بننے والے متنازعہ ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘ نے عالمی سفارت کاری میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق 35 ممالک نے اس بورڈ میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، تاہم کئی اہم یورپی اور مغربی ممالک نے واضح انکار کرتے ہوئے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
 
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں متعدد ممالک نے بورڈ میں شمولیت کے لیے دستخط کیے۔ تاہم صدر ٹرمپ کے اس بیان نے تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے کہ یہ بورڈ مستقبل میں اقوام متحدہ کی جگہ لے سکتا ہے، جس کے بعد کئی ممالک نے اس منصوبے سے فاصلہ اختیار کر لیا۔

بورڈ آف پیس کیا ہے؟

’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘ دراصل صدر ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی غزہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے، جس پر ثالثوں کے ذریعے حماس اور اسرائیل نے اتفاق کیا تھا۔ نومبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس منصوبے کی توثیق کی تھی، جس میں اس بورڈ کو غزہ کی غیر فوجی حیثیت برقرار رکھنے اور تعمیرِ نو کی نگرانی سونپنے کی تجویز دی گئی تھی۔
 
تاہم امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق بورڈ کے مجوزہ چارٹر میں غزہ کا نام تک شامل نہیں، بلکہ اسے ایک بین الاقوامی تنظیم کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کا دائرہ کار دنیا بھر میں تنازعات، جنگ کے خدشات اور حکمرانی کے مسائل تک پھیلا ہوا ہے۔

قیادت اور مالی شرائط

صدر ٹرمپ اس بورڈ کے غیر معینہ مدت کے چیئرمین ہوں گے، جبکہ ایگزیکٹو بورڈ میں جیئرڈ کشنر، مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر شامل ہوں گے۔ مستقل رکنیت کے لیے ممالک کو ایک ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ رقم غزہ کی تعمیرِ نو پر خرچ کی جائے گی۔

کن ممالک نے شمولیت اختیار کی؟

اب تک جن ممالک نے شمولیت کی تصدیق کی ہے ان میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، مصر، قطر، بحرین، پاکستان، ترکی، ہنگری، مراکش، کوسووو، ارجنٹینا، پیراگوئے، قازقستان، ازبکستان، انڈونیشیا، ویتنام، آرمینیا، آذربائیجان اور اسرائیل شامل ہیں۔ بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی شمولیت نے بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
 
صدر ٹرمپ کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو بھی دعوت دی گئی ہے اور وہ شمولیت پر آمادہ ہیں، تاہم روس کی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ پوٹن نے مبینہ طور پر تجویز دی ہے کہ امریکا میں منجمد روسی اثاثوں سے ایک ارب ڈالر ادا کیے جا سکتے ہیں۔ کینیڈا نے بھی مشروط شمولیت کا عندیہ دیا ہے۔

کن ممالک نے انکار کیا؟

فرانس اور ناروے نے اس بنیاد پر شمولیت سے انکار کیا کہ بورڈ اور اقوام متحدہ کے درمیان تعلقات کا فریم ورک واضح نہیں۔ یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے روس اور بیلاروس کی شمولیت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ دشمن ممالک کے ساتھ ایک ہی کونسل میں بیٹھنا ممکن نہیں۔ اٹلی نے آئینی مسائل، برطانیہ نے اقوام متحدہ کے متبادل کے خدشے اور آئرلینڈ نے مزید غور و فکر کی بات کہی ہے۔ چین نے واضح کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے مرکزی کردار سے وابستہ رہے گا۔

عالمی خدشات اور اعتراضات

سفارتی ماہرین نے بورڈ کے وسیع اختیارات، ٹرمپ کی غیر معینہ قیادت اور ایک ارب ڈالر کی رکنیت فیس کو بدعنوانی کے خدشات سے جوڑا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ بورڈ اقوام متحدہ کے متوازی یا اس کی جگہ لینے کی کوشش محسوس ہوتا ہے، جبکہ غزہ جنگ میں ملوث ممالک کی شمولیت بھی امن کے مقصد سے متصادم دکھائی دیتی ہے۔ مجموعی طور پر ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘ ایک ایسا عالمی منصوبہ بن چکا ہے جس نے سفارتی دنیا کو تقسیم کر دیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس پر بحث مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔