• News
  • »
  • قومی
  • »
  • جنتر منتر احتجاج: پولیس کے زیرِ قبضہ ڈمپر احتجاجی مقام کے قریب کیسے پہنچا؟

جنتر منتر احتجاج: پولیس کے زیرِ قبضہ ڈمپر احتجاجی مقام کے قریب کیسے پہنچا؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 29, 2026 IST

جنتر منتر احتجاج: پولیس کے زیرِ قبضہ ڈمپر احتجاجی مقام کے قریب کیسے پہنچا؟
دہلی کے جنتر منتر کے قریب طلبہ کے احتجاج کے دوران پتھروں اور اینٹوں سے بھرے ایک ڈمپر ٹرک کی موجودگی ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ اس معاملے میں سامنے آنے والی معلومات اور دہلی پولیس کے مختلف بیانات نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
 
میڈیا رپورٹ کے مطابق، اس معاملے کی شروعات 16 جولائی کو ہوئی، جب دہلی میں ایک ڈمپر ٹرک اور ایک ایکو وین کے درمیان سڑک حادثہ پیش آیا۔ حادثے کے بعد دہلی پولیس نے ٹرک کو ضبط کرکے سنسد مارگ پولیس اسٹیشن کے مال خانے (پولیس تحویل) میں رکھ دیا۔
 
معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب 20 جولائی کو پارلیمنٹ کے اجلاس کے آغاز کے روز، جنتر منتر پر یہ ڈمپر ٹرک پتھروں اور اینٹوں سے بھرا ہوا دیکھا گیا۔ اس وقت پارلیمنٹ کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات نافذ تھے اور علاقے میں دفعہ 163 نافذ تھی۔
 
ٹرک کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس کی موجودگی پر سوالات اٹھائے گئے۔ بعد ازاں یہ ٹرک وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد 25 جولائی کو یہی ٹرک مبینہ طور پر انڈین یوتھ کانگریس کے دفتر، 5 رائسینا روڈ کے باہر کھڑا دیکھا گیا، جہاں عام طور پر بھاری گاڑیوں کی آمدورفت محدود رہتی ہے۔
 
اس معاملے پر نیوز لانڈری کے صحافی اودھیش کمار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پولیس سے رابطہ کرنے پر مختلف افسران کی جانب سے الگ الگ وضاحتیں دی گئیں۔
 
رپورٹ کے مطابق ایک پولیس اہلکار نے کہا کہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹرک کو بھلسوا لے جا کر خالی کیا گیا۔ ایک دوسرے اہلکار نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن میں جگہ کی کمی کے باعث ٹرک کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا تھا۔ جبکہ متعلقہ ایس ایچ او نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرک 19 جولائی کو ہی خالی کر دیا گیا تھا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز پرانی تھیں۔
 
ایک ہی معاملے پر سامنے آنے والے مختلف بیانات کے بعد کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اگر ٹرک واقعی پولیس کی تحویل میں تھا تو وہ جنتر منتر جیسے حساس علاقے تک کیسے پہنچا؟ اگر اسے ضابطے کے مطابق منتقل کیا گیا تھا تو مختلف افسران کے بیانات میں تضاد کیوں نظر آ رہا ہے؟ اور اگر ٹرک احتجاجی مقام پر موجود تھا تو وہاں اس کی موجودگی کی وجہ کیا تھی؟
 
فی الحال اس معاملے پر ان سوالات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت یا جامع بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اس لیے اس واقعے سے متعلق مختلف دعوؤں اور پولیس کے مؤقف کی مزید وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔