Monday, September 14, 2026 | 30 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • ترنمول کانگریس چھوڑنے والے رکن پارلیمنٹ کا بڑا دعویٰ، 17 ارکان بی جے پی میں ہو سکتے ہیں شامل

ترنمول کانگریس چھوڑنے والے رکن پارلیمنٹ کا بڑا دعویٰ، 17 ارکان بی جے پی میں ہو سکتے ہیں شامل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 14, 2026 IST

ترنمول کانگریس چھوڑنے والے رکن پارلیمنٹ کا بڑا دعویٰ، 17 ارکان بی جے پی میں ہو سکتے ہیں شامل
ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس (TMC) چھوڑ کر نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا (NCPI) میں شامل ہونے والے کوچ بہار کے رکن پارلیمنٹ جگدیش چندر برما بسونیا نے ایک بڑا سیاسی دعویٰ کیا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے جگدیش چندر برما بسونیا نے کہا کہ NCPI کے 20 میں سے 17 ارکانِ پارلیمنٹ درگا پوجا سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ان 17 ارکان میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے تین ارکان شامل نہیں ہوں گے۔
 
بسونیا کے مطابق، NCPI کے رکن پارلیمنٹ ابو طاہر اور خلیل الرحمان کو مخصوص محکموں کی ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں اور وہ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) کی حمایت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں کے انتخابی حلقے بڑی حد تک اقلیتی آبادی والے علاقوں پر مشتمل ہیں، اس لیے ان کے لیے براہِ راست بی جے پی میں شامل ہونا سیاسی طور پر پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
 
بی جے پی میں شامل ہونے کا دعویٰ
 
جگدیش چندر برما بسونیا نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ بی جے پی کی جانب سے ہی ان کے NCPI میں شامل ہونے کی راہ ہموار کی گئی تھی، لیکن دراصل ان میں سے بیشتر ارکان بی جے پی میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق اگر منصوبہ طے شدہ طریقے سے آگے بڑھا تو 20 میں سے 17 ارکان درگا پوجا سے پہلے بی جے پی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔ تاہم، NCPI کے دیگر ارکان یا بی جے پی کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق سامنے آنے کی بات اس بیان میں نہیں کی گئی ہے۔
 
بسونیا کی واپسی پر سیتائی میں کشیدگی
 
دوسری جانب، کوچ بہار سے رکن پارلیمنٹ بسونیا اتوار کو سخت پولیس سیکیورٹی کے درمیان اپنے گھر واپس پہنچے۔ ان کی واپسی کی خبر پھیلتے ہی سیتائی علاقے میں سیاسی کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سیتائی بس اسٹینڈ کے قریب واقع TMC دفتر میں مبینہ طور پر توڑ پھوڑ کی گئی اور بعد میں اسے آگ لگا دی گئی۔ احتجاج کے دوران مقامی افراد اور بی جے پی کارکنوں کا ایک گروپ بسونیا کی رہائش گاہ کے باہر بھی جمع ہوا۔ مظاہرین نے بسونیا پر گزشتہ 15 برس کے دوران اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرتے ہوئے بدعنوانی کے ذریعے دولت جمع کرنے کے الزامات عائد کیے۔ ان پر رائس مل سمیت مختلف کاروبار قائم کرنے کے بھی الزامات لگائے گئے، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
 
مظاہرین نے ان کی سیاسی وفاداریوں میں تبدیلی پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بسونیا پہلے فارورڈ بلاک کے ساتھ رہے، پھر TMC میں شامل ہوئے اور اب بی جے پی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ مظاہرین نے یہ بھی کہا کہ وہ اور ان کے حامی بی جے پی میں قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔ اس پورے معاملے کے بعد سیتائی میں سیاسی ماحول کشیدہ دکھائی دے رہا ہے، جبکہ NCPI کے ارکان کے ممکنہ بی جے پی میں شمولیت کے دعوے نے مغربی بنگال کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔