Monday, September 14, 2026 | 30 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • راجستھان بلدیاتی نتائج پر کیجریوال کا بڑا بیان

راجستھان بلدیاتی نتائج پر کیجریوال کا بڑا بیان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 14, 2026 IST

راجستھان بلدیاتی نتائج پر کیجریوال کا بڑا بیان
عام آدمی پارٹی (AAP) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے راجستھان بلدیاتی انتخابات کے نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں بھی تبدیلی کی ہوائیں چل پڑی ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ عام آدمی پارٹی کے انتخابی نشان ’جھاڑو‘ نے وزیر تعلیم کے حلقۂ انتخاب باراں میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے اور پارٹی وہاں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔
 
کیجریوال نے کہا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے راجستھان کے سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی سے متعلق ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی تھیں، جس کے باعث عوام میں حکومت کے خلاف ناراضی دیکھی جا رہی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ کانگریس اور بی جے پی نے ریاست کو بدحالی کی طرف دھکیل دیا ہے اور عوام دونوں جماعتوں کی مبینہ ملی بھگت سے تنگ آچکے ہیں۔ کیجریوال کے مطابق اب عوام کے پاس عام آدمی پارٹی کی شکل میں ایک متبادل موجود ہے۔
 
عام آدمی پارٹی نے ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ باراں میونسپل کونسل میں اس کے 32 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ پارٹی کے مطابق پڈاوا میونسپلٹی میں پانچ امیدواروں نے کامیابی حاصل کی، جبکہ جھالراپاٹن میونسپل کونسل میں بھی پانچ امیدوار جیتے ہیں۔ اس کے علاوہ جھالاواڑ میونسپل کونسل میں بھی AAP کا ایک امیدوار کامیاب ہوا ہے۔
 
راجستھان بلدیاتی انتخابات کے مجموعی نتائج میں بی جے پی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، جبکہ کانگریس کی کارکردگی بھی کئی مقامات پر پہلے کے مقابلے میں بہتر رہی ہے۔ جودھپور میونسپل کارپوریشن میں سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کے وارڈ میں کانگریس کو شکست ہوئی، جبکہ مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت کے وارڈ میں بی جے پی امیدوار بھی کامیاب نہیں ہو سکے۔ جھالاواڑ کو سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے کا سیاسی گڑھ سمجھا جاتا ہے، لیکن یہاں کانگریس نے میونسپل کونسل کی 45 میں سے 29 نشستیں جیت کر سب کو حیران کردیا۔
 
AIMIM نے بھی کھولا کھاتہ
 
راجستھان کے بلدیاتی انتخابات میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) نے بھی اپنا کھاتہ کھولا ہے۔ پارٹی کی امیدوار فیروزہ بانو جے پور کے بھٹا بستی علاقے سے کامیاب ہوئی ہیں۔ AIMIM نے ریاست میں پانچ نشستوں پر انتخاب لڑا تھا، جن میں سے دو پر اسے کامیابی حاصل ہوئی۔ دوسری جانب پربتسر میونسپلٹی (Parbatsar Municipality) کے وارڈ نمبر 13 میں بی جے پی امیدوار کیلاش چند کو صرف ایک ووٹ ملنے کا معاملہ بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
 
 
ریاست کے مجموعی طور پر 309 شہری بلدیاتی اداروں کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق بی جے پی 136 اداروں میں کامیابی یا برتری حاصل کیے ہوئے ہے، جبکہ کانگریس 117 میں آگے ہے۔ دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے زمرے میں 56 ادارے شامل ہیں، جس میں AAP بھی شامل ہے۔ نگر پریشدوں میں بی جے پی 21 اور کانگریس 17 میں آگے ہے، جبکہ نگر پالیکاؤں میں بی جے پی 108 اور کانگریس 98 میں سبقت بنائے ہوئے ہے۔ یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ریاست کی سیاست میں آئندہ انتخابات کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔ AAP ان نتائج کو اپنی سیاسی توسیع کے طور پر پیش کر رہی ہے، جبکہ بی جے پی اور کانگریس کے لیے یہ نتائج کئی علاقوں میں مقامی سطح پر نئی سیاسی حکمت عملی کا اشارہ بھی دے رہے ہیں۔