• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • منشیات کے استعمال کے خلاف سرحدوں سے ماورا تعاون

منشیات کے استعمال کے خلاف سرحدوں سے ماورا تعاون

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 12, 2026 IST

منشیات کے استعمال کے خلاف سرحدوں سے ماورا تعاون
ڈاکٹر کوستُبھ شرما نے ہمفری فیلوشپ کے ذریعے منشیات کے استعمال کی روک تھام، علاج اور کمیونٹی پر مبنی حکمت عملیوں کا مطالعہ کیا اور صحت عامّہ کو مضبوط کرنے کے طریقے دریافت کیے۔ 
 

گریراج اگروال

 
منشیات کا استعمال ایک عالمی مسئلہ ہے جو خاندانوں اور طبقات کو متاثر کرتا ہے۔ حکومتیں اب تیزی سے یہ تسلیم کر رہی ہیں کہ اس کے طویل مدتی حل کے لیے صرف قانون نافذ کرنا کافی نہیں۔ لوگوں کو اپنی زندگی دوبارہ سنبھالنے میں مدد دینے کے لیے روک تھام، علاج اور بحالی کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
 
اسی وسیع کوشش کے تحت ڈاکٹر کو ستُبھ شرما ، جو قانون نافذ کرنے کے شعبے سے وابستہ ہیں اور صحت عامّہ کے حامی بھی ہیں، نے ہوبرٹ ایچ ہمفری فیلو شپ میں شمولیت اختیار کی ۔ امریکی محکمہ خارجہ کی مالی اعانت سے چلنے والا یہ فیلو شپ پروگرام دنیا بھر اور امریکہ کے پیشہ ور افراد کو یکجا کرتا ہے تاکہ وہ خیالات کا تبادلہ کریں اور عالمی صحت سلامتی سمیت اہم مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنے ردعمل کو مضبوط بنائیں۔
 
ڈاکٹر شرما بتاتے ہیں ’’میری فیلوشپ کے بنیادی مقاصد میں منشیات کی روک تھام میں شامل مختلف اداروں کے کام میں ہم آہنگی پیدا کرنا، اداروں کے درمیان رابطے کے مؤثر طریقۂ کار تیار کرنا اور روک تھام، علاج اور بحالی کے کردار کو سمجھنا شامل تھا۔
 
امریکی طریقۂ کار سے سیکھنا
 
۲۰۱۸ ء میں ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی میں اپنے ایک سالہ قیام کے دوران ڈاکٹر شرما نے یہ مطالعہ کیا کہ امریکی ادارے منشیات کے استعمال سے نمٹنے کے لیے روک تھام، علاج اور بحالی کے شعبوں میں کس طرح کام کرتے ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے انہیں مختلف لیکن ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے طریقۂ کار سے روشناس ہونے کا موقع ملا۔
 
انہوں نے دیکھا کہ امریکی اسکول سال میں دو بار گمنام سروے کرتے ہیں، جن کے ذریعے نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کے رجحانات کا سراغ لگایا جاتا ہے۔ اس سے پالیسی سازوں کو ویپنگ (الیکٹرانک سگریٹ کے ذریعے نکوٹین یا دیگر مادّوں کا استعمال) جیسے ابھرتے ہوئے رجحانات کے بارے میں بروقت معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر شرما کہتے ہیں ’’اس طرح کا ڈیٹا جمع کرنے سے پالیسی سازوں کو منشیات کے استعمال کے عمل میں اہم مراحل پر مداخلت کا موقع ملتا ہے۔ اس کے بغیر بروقت اقدامات کے مواقع ضائع ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔‘‘
 
انہوں نے ورجینیا فاؤنڈیشن فار ہیلدی یوتھ کے طریقۂ کار سے بھی سیکھا، جو نوجوانوں کی رائے اور شمولیت کے ساتھ روک تھام کی مہمات تیار کرتی ہے تاکہ پیغامات مؤثر طور پر نوجوانوں تک پہنچ سکیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کمیونٹی پروگراموں اور نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا، جن کا مقصد ابتدائی مرحلے پر مداخلت ہے۔
 
ان کے لیے ایک اہم نکتہ بالغوں اور کم عمر افراد کے لیے منشیات کے علاج کی عدالتوں کا کردار تھا، جو پہلی بار جرم کرنے والوں کو علاج سے جوڑتی ہیں، ضرورت مند افراد کے لیے رعایتی علاج فراہم کرتی ہیں، اور صحت کے اداروں، اصلاحی خدمات اور مقامی حکومتوں کو ایک ساتھ لاتی ہیں۔ ڈاکٹر شرما کہتے ہیں ’’یہ دیکھنا بے حد قیمتی تجربہ تھا کہ قومی، ریاستی اور مقامی سطح کے ادارے کس طرح باہمی ہم آہنگی سے کام کرتے ہیں۔ صرف قانون نافذ کرنے والا نظام اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے کئی سطحوں پر مربوط کوشش درکار ہے۔‘‘
 
انہوں نے ہم عمر افراد کی مدد پر مبنی ماڈلس —جیسے الکحلکس اینانیمس (اے اے)، نارکوٹکس اینانیمس (این اے)، اور اسمارٹ ریکوری—کا بھی جائزہ لیا۔ اسمارٹ ریکوری ایسا پروگرام ہے جو معقول جذباتی رویّاتی تھراپی (جذبات اور سوچ کے تعلق کو سمجھنے کا طریقۂ علاج) اور ادراکی رویّاتی تھراپی (سوچ اور رویّے میں مثبت تبدیلی پر مبنی علاج) پر مبنی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ گرجا گھر اور یونیورسٹی کیمپس جیسے کمیونٹی ادارے ان گروپس کے لیے ملاقات کی جگہ فراہم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر شرما کے مطابق ’’صحت یاب ہونے والے افراد کی بطور رہنما کھلی شمولیت، اور اے اے، این اے اور اسمارٹ ریکوری جیسے متبادل، صحت یابی کی طرف بڑھنے والے افراد کے لیے معاون راستے فراہم کرتے ہیں۔‘‘
 
فیلوشپ کے دوران ڈاکٹر شرما نے کمیونٹی پر مبنی ردِعمل کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے لیے رچمنڈ ایڈلٹ ڈرگ کورٹ اور الیگزینڈریا میں قائم کمیونٹی اینٹی ڈرگ کولیشنز آف امیریکہ (سی اے ڈی سی اے) کے ساتھ پیشہ ورانہ روابط قائم کیے۔ رچمنڈ ایڈلٹ ڈرگ کورٹ میں انہوں نے دیکھا کہ علاج کو عدالتی عمل کے ساتھ کس طرح یکجا کیا جاتا ہے، جبکہ سی اے ڈی سی اے میں انہوں نے یہ سیکھا کہ اتحاد کس طرح مقامی شراکت داروں کو متحرک کرتے ہیں، تحقیق پر مبنی طریقے استعمال کرتے ہیں اور پالیسی سازوں کے ساتھ مل کر روک تھام کی کوششوں کو مضبوط بناتے ہیں۔
 
وہ کہتے ہیں ’’میں نے یہ سیکھا کہ امریکی ادارے پالیسی سازوں اور قانون سازوں کے ساتھ کس طرح رابطہ کرتے ہیں تاکہ اصلاحات کی حمایت کی جا سکے، محروم طبقات کے لیے علاج کے مواقع بڑھائے جائیں، اور نوجوانوں میں الکحل اور ویپس (الیکٹرانک سگریٹ) سمیت نشہ آور اشیا کی دستیابی کے مسئلے سے نمٹا جا سکے۔‘‘
 
منشیات سے متعلق قومی اداروں—جن میں سبسٹنس ایبیوز اینڈ مینٹل ہیلتھ سروسز ایڈمنسٹریشن، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ڈرگ ایبیوز اور ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن شامل ہیں—کے دوروں سے انہیں یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ تحقیق، صحتِ عامہ اور قانون نافذ کرنے کے اقدامات قومی سطح پر کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ ڈی ای اے میں تبادلہ پروگرام کے شرکا نے کانگریس کی کارروائیوں کا بھی مشاہدہ کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ مختلف ادارے پالیسی سازی میں کس طرح کردار ادا کرتے ہیں۔
 
سیکھے گئے اسباق کا ہندوستان میں اطلاق
 
ہندوستان واپسی پر ڈاکٹر شرما نے امریکی طریقۂ کار کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالنا شروع کیا۔
 
انہوں نے اسمارٹ ریکوری پروگرام متعارف کرایا، جو شواہد پر مبنی اوزار (تحقیق اور ڈیٹا سے ثابت شدہ طریقے) استعمال کرتے ہوئے افراد کو اپنی بحالی خود سنبھالنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک آزمائشی منصوبے میں سرکاری ماہرِ نفسیات کو سہولت کار کے طور پر تربیت دی گئی۔ وہ کہتے ہیں ’’میں نے خود سرٹیفکیشن کورس مکمل کیا اور نفاذ کی حمایت کے لیے معیاری فارم تیار کیے۔‘‘
 
انہوں نے سی اے ڈی سی اے سے متاثر کمیونٹی اتحاد کی ترقی میں بھی مدد کی۔ کمیونٹی پولیسنگ ونگ کے ذریعے خواتین اور بچوں کے لیے محفوظ راستے فراہم کیے گئے تاکہ وہ اپنے مسائل بیان کر سکیں اور بروقت مداخلت ممکن ہو۔ ان تمام اقدامات میں ڈاکٹر شرما نے ابتدائی انتباہی جائزے اور کمیونٹی کی شمولیت کو اجاگر کیا—یہ وہ عملی طریقے ہیں جو انہوں نے امریکہ میں مطالعہ کیے گئے اسٹریٹجک پریونشن فریم ورک (منشیات کی روک تھام کے لیے ایک مرحلہ وار، تحقیق پر مبنی حکمت عملی) کا مرکز ہیں۔
 
امریکہ۔ہند تعاون کو مضبوط بنانا
 
ڈاکٹر شرما اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نیم مصنوعی اوپیائیڈز (قدرتی اور مصنوعی اجزا سے تیار کی جانے والی نشہ آور درد کُش ادویات) کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’اسمگلنگ کے معاملے میں، امریکہ اور ہندوستان کو نیم مصنوعی اوپیائیڈز—خصوصاً ہیروئن—کے ایک جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، کیونکہ گولڈن کریسنٹ کا علاقہ (افغانستان، ایران اور پاکستان پر مشتمل منشیات پیدا کرنے والا خطہ) ہیروئن کی 80 فیصد پیداوار کے لیے ذمہ دار ہے۔‘‘
ان کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان فعال تعاون بے حد ضروری ہے۔ خطرے کی درجہ بندی (ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی کا طریقہ) کے تحت مضبوط سرحدی اور کسٹمز کنٹرول اسمگلنگ نیٹ ورکس کو محدود کر سکتے ہیں جو اشیاء کی اصل چھپاتے یا ترسیلات پر غلط لیبل لگاتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ مشتبہ بحری جہازوں کی نگرانی کے لیے سمندری تعاون اور اسمگلنگ کی مالی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کو ختم کرنا غیر قانونی منشیات کے بہاؤ کو مزید کم کر سکتا ہے۔
 
روابط اور تعاون کا تسلسل
 
ڈاکٹر شرما اپنے ہمفری ساتھیوں اور اساتذہ سے رابطے میں ہیں اور اس پروگرام میں شامل ہونے والے ہندوستانی پیشہ ور افراد کی رہنمائی بھی کرتے رہتے ہیں۔
 
اپنے تجربے پر غور کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ منشیات کی دستیابی کو کنٹرول کرنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار اہم ہے، مگر پائیدار تبدیلی کے لیے ڈیٹا اور کمیونٹی کی شمولیت سے مضبوط طریقے سے مربوط روک تھام، علاج اور بحالی ضروری ہے۔ ڈاکٹر شرما کہتے ہیں ’’سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ روک تھام پر توجہ دی جائے اور اس میں سرمایہ کاری کی جائے۔ جن بچوں کی اب رہنمائی کی جا سکے اور جن میں مزاحمت پیدا کی جا سکے، وہ منشیات آزمانے سے محفوظ رہنے کے امکانات زیادہ رکھتے ہیں—اور بحیثیت معاشرہ، یہی بہترین نتیجہ ہے جس کی ہم توقع کر سکتے ہیں۔‘‘
 

بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی