ڈی ایم کے نے مرکز سے مطالبہ کیا ہے کہ میکیداٹوڈیم تنازع کو حل کرنے کے لیے فوری طور پر ایک الگ ٹریبونل قائم کیا جائےگا ۔ پارٹی نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کرناٹک، تمل ناڈو کو کاویری دریا کے پانی کا مقررہ حصہ بغیر کسی تاخیر کے جاری کرے۔یہ مطالبہ جمعرات کو ڈی ایم کے کے ارکانِ پارلیمنٹ کی میٹنگ میں ایک قرارداد کے ذریعے کیا گیا۔ اس میٹنگ کی صدارت پارٹی صدر ایم کے اسٹالن نے کی۔ یہ اجلاس پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون سیشن سے پہلے منعقد ہوا۔
قرارداد میں تمل ناڈو کے کسانوں کو درپیش مسائل پر تشویش ظاہر کی گئی۔ پارٹی نے کہا کہ 12 جون کی مقررہ تاریخ پر میٹور ڈیم(Mettur Dam) نہ کھولے جانے سے کسان برادری کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ڈی ایم کے نے کرناٹک حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے جنوری 2024 سے پانی جاری نہیں کیا اور کاویری واٹر ریگولیشن کمیٹی (CWRC) کے سامنے بھی سخت موقف اختیار کیا-
ڈی ایم کے نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ ایم کروناندھی نے بھی کاویری پانی کے تنازع کو حل کرنے کے لیے ٹریبونل بنانے کی کوشش کی تھی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ میکیداٹو ڈیم کے معاملے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کے لیے بھی ایک ایسے ہی ٹریبونل کی ضرورت ہے، جو دونوں فریقوں کی بات سن کر فیصلہ کرے۔
ڈی ایم کے نے تمل ناڈو اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کا خیر مقدم کیا، جس میں میکیداٹو معاملے پر ٹریبونل بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ادھیانیدھی اسٹالن نے پارٹی صدر ایم کے اسٹالن کی ہدایت پر قرارداد میں ترمیم پیش کی تھی
ڈی ایم کے نے اپنے ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس میں اس معاملے کو ضرور اٹھائیں اور مرکز پر دباؤ ڈالیں کہ تمل ناڈو کو کاویری کا پانی جاری کیا جائے۔میٹنگ میں ایک اور قرارداد بھی منظور کی گئی، جس میں ڈی ایم کے نے کہا کہ اس کے ارکان پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تمل ناڈو کے عوام کی آواز بن کر کام کرتے رہیں گے۔پارٹی نے کہا کہ وہ ایسی کسی بھی نئی مرکزی قانون سازی کی مخالفت کرے گی جو ریاستی خود مختاری، وفاقی نظام یا آئینی اقدار کو نقصان پہنچائے۔
میٹنگ کے بعد ایم کے اسٹالن نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایم کے کے ارکان پارلیمنٹ میکیداٹو ڈیم کی تعمیر کی کوششوں کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور کاویری دریا پر تمل ناڈو کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔اسٹالن نے کہا کہ ڈی ایم کے کا ہر رکن پارلیمنٹ تمل ناڈو کے عوام کے مفادات اور حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرے گا۔