ہندوستان-پاکستان سرحد سے متصل راجستھان کے مختلف اضلاع میں ان دنوں 'آپریشن کلین' کے نام سے ایک وسیع انتظامی مہم جاری ہے، جس نے مقامی سطح پر بحث اور سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، پاک-بھارت سرحد سے تقریباً 50 کلومیٹر کے دائرے میں مبینہ غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس مہم کے دوران پہلے بھی متعدد مساجد، مدارس اور درگاہوں کے خلاف انہدامی کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، 16 جولائی کو انتظامیہ نے مزید چار مساجد کو مسمار کیا۔ یہ مساجد جیسلمیر کے میرپورہ، احمد پورہ، کھاریا اور ضلع پھلودی کے ملاسر گاؤں میں واقع تھیں۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ کارروائیاں قانونی ضابطوں کے مطابق کی جا رہی ہیں اور غیر مجاز تعمیرات کے خلاف یکساں پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔
تاہم، اس کارروائی کے بعد متاثرہ علاقوں کے کئی رہائشیوں نے سنگین اعتراضات اٹھائے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مساجد کو گرانے سے قبل انہیں کسی قسم کا باقاعدہ نوٹس نہیں دیا گیا اور نہ ہی اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع ملا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سرحدی علاقوں میں دیگر مذہبی اور غیر مذہبی تعمیرات بھی موجود ہیں، لیکن کارروائی کا مرکز صرف مسلم عبادت گاہیں بن رہی ہیں۔
یہ معاملہ اب کئی اہم سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ اگر انتظامیہ کی کارروائی مکمل طور پر قانونی اور قواعد کے مطابق ہے، تو کیا تمام متاثرہ فریقوں کو قانون کے تحت نوٹس، سماعت اور جواب دینے کا حق فراہم کیا گیا؟ کیا انہدامی کارروائی سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے؟ اگر سرحدی علاقوں میں دیگر غیر مجاز تعمیرات بھی موجود ہیں، تو کیا ان کے خلاف بھی اسی معیار اور رفتار سے کارروائی کی جا رہی ہے؟
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی انتظامی کارروائی کی شفافیت اور غیر جانبداری عوامی اعتماد قائم رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ اگر کارروائی بلاامتیاز اور یکساں اصولوں کے تحت کی جائے تو اس پر اٹھنے والے بیشتر سوالات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔
عوام کی توقع ہے کہ انتظامیہ اس پورے معاملے کی تفصیلات واضح کرے، کارروائی کی قانونی بنیاد اور طریقۂ کار عوام کے سامنے رکھے، اور اگر کسی متاثرہ فریق کے ساتھ قانونی عمل میں کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اس کا ازالہ یقینی بنایا جائے۔ ایک جمہوری نظام میں قانون کی طاقت اسی وقت مؤثر سمجھی جاتی ہے جب وہ مذہب، ذات یا شناخت سے بالاتر ہو کر سب پر یکساں طور پر نافذ ہو اور ہر شہری کو انصاف اور شفاف کارروائی کا یقین حاصل ہو۔