پاکستان کے سب سے بڑے بندرگاہی شہر کراچی میں جمعرات کو ایک اپارٹمنٹ میں گیس سلنڈر دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئےجبکہ متعدد دیگر افراد زخمی ہوئے۔ اور عمارت کے ایک حصہ کو بھاری نقصان ہوا۔ مہلوکین میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
دھماکا سولجر بازار کے علاقے گل رانا کالونی میں ایک اپارٹمنٹ میں ہوا۔
واقعے کے بعد ایمرجنسی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کاروائیاں شروع کر دیں۔ کئی افراد کو ملبے سے نکال کر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ امدادی کام کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ریسکیو ڈپارٹمنٹ کے ترجمان حسان خان نے بتایا کہ ’’اب تک ملبے سے 16 لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ 14 زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا طبی معائنہ جاری ہے۔ مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔
دھماکا بدھ کی رات پہلی منزل پر ہوا جس سے عمارت کا کچھ حصہ منہدم ہوگیا، زمین پر موجود ریسکیو ذرائع نے مزید کہا کہ سرچ آپریشن میں تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کےمعروف روزنامہ ڈان نے رپورٹ کیا کہ اس واقعے نے ایک بار پھر کئی رہائشی علاقوں میں گیس کی حفاظت اور ناقص انفراسٹرکچر پر تشویش کو اجاگر کیا ہے۔
ڈپٹی کمشنرایسٹ نصراللہ عباسی نے کہا کہ خدشہ ہے کہ ملبے تلے مزید دو افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سلنڈر پھٹنے سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں وہ گر گئی۔حکام نے بتایا کہ پرہجوم علاقے کی وجہ سے رسائی کے چیلنجوں کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے دھماکے اور موات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے متاثرین کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور حکام کو ہدایت دی کہ زخمیوں کو تمام ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
اس سے قبل 17 جنوری کو کراچی کے ایک شاپنگ مال میں زبردست آگ لگ گئی تھی، جس میں کم از کم 80 افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے تھے۔محمد علی جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں لگنے والی آگ کثیر المنزلہ کمرشل عمارت میں تیزی سے پھیلی، جس سے متعدد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔