• News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • انکت شرما قتل کیس: سابق کونسلر طاہر حسین سمیت پانچ مجرموں کو عمر قید

انکت شرما قتل کیس: سابق کونسلر طاہر حسین سمیت پانچ مجرموں کو عمر قید

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 31, 2026 IST

انکت شرما قتل کیس: سابق کونسلر طاہر حسین سمیت پانچ مجرموں کو عمر قید
2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسر انکت شرما کے قتل کے مقدمے میں کڑکڑڈوما عدالت نے سابق کونسلر طاہر حسین سمیت پانچ مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ جمعہ (31 جولائی) کو سزا سناتے ہوئے عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک نہایت سنگین اور دل دہلا دینے والا جرم تھا، جس نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
 
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انکت شرما کو انتہائی بے رحمی سے قتل کیا گیا اور موت کے بعد بھی ان کی لاش کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ عدالت کے مطابق جرم کی نوعیت اس قدر وحشیانہ تھی کہ اس نے عوام کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا اور معاشرے کو اس واقعے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کیا۔
 
اس سے قبل 13 جولائی 2026 کو عدالت نے سابق عام آدمی پارٹی کونسلر طاہر حسین، نجیم، قاسم، انس اور جاوید کو اس مقدمے میں قصوروار قرار دیا تھا۔ سزا کے مرحلے میں دہلی پولیس اور مقتول انکت شرما کے اہلِ خانہ نے تمام مجرموں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔
 
استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ انکت شرما پر انتہائی سفاکانہ حملہ کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ان کے جسم پر مجموعی طور پر 51 زخم پائے گئے، جن میں سات زخم جان لیوا تھے، جبکہ 16 زخم تیز دھار ہتھیاروں سے لگے تھے۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ قتل کے بعد بھی ان کی لاش کو گھسیٹ کر چاند باغ کے علاقے میں ایک نالے میں پھینک دیا گیا، جس سے جرم کی سنگینی مزید واضح ہوتی ہے۔ دہلی پولیس نے اس مقدمے کو (Rarest of Rare) قرار دیتے ہوئے سزائے موت دینے کی استدعا کی تھی۔
 
دوسری جانب، طاہر حسین کے وکیل نے سزائے موت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سزا کا تعین صرف زخموں کی نوعیت کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ وکیل  نے یہ بھی دلیل دی کہ واقعے کے دوران طاہر حسین نے خود پولیس کو مدد کے لیے فون کیا تھا، اس لیے انہیں اس طرح کی سزا دینا مناسب نہیں ہوگا۔
 
تمام دلائل سننے کے بعد عدالت نے سزائے موت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے طاہر حسین اور دیگر چار مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگرچہ جرم انتہائی سنگین اور وحشیانہ تھا، تاہم دستیاب قانونی اور عدالتی اصولوں کی روشنی میں عمر قید مناسب سزا ہے۔ یہ مقدمہ 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق سب سے زیادہ زیرِ بحث مقدمات میں شمار ہوتا ہے، جس پر ملک بھر کی نظریں مرکوز رہی ہیں۔