پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں کوئلے کی ایک کان میں ہونے والے ہولناک دھماکے میں کم از کم 32 مزدور جاں بحق ہو گئے، جبکہ 10 دیگر تاحال زیرِ زمین پھنسے ہوئے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ کان میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ حادثہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے میں واقع کوئلے کی کان میں پیش آیا۔ سرکاری مائن انسپکٹر غنی بلوچ کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کان کے اندر میتھین گیس جمع ہونے کے باعث زوردار دھماکہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ زیرِ زمین کوئلے کی کانوں میں میتھین گیس کا جمع ہونا ایک عام مگر انتہائی خطرناک مسئلہ ہے، جو مناسب حفاظتی اقدامات نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا حادثات کا سبب بن سکتا ہے۔
حکام کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔ ابتدائی مرحلے میں متعدد مزدوروں کی لاشیں نکالی گئیں، جبکہ بعد میں مزید لاشیں برآمد ہونے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 32 تک پہنچ گئی۔ ریسکیو اہلکار اب بھی زیرِ زمین پھنسے ہوئے 10 مزدوروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم کان کے اندر دشوار حالات اور گیس کی موجودگی کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بلوچستان کے وزیر برائے معدنیات شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ صوبائی حکومت ریسکیو کارروائیوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو ہر ممکن وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے جاں بحق مزدوروں کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہر متاثرہ خاندان کو 5 لاکھ پاکستانی روپے بطور معاوضہ دیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حادثے کی وجوہات کا مکمل تعین کرنے کے لیے جامع تحقیقات کرائی جائیں گی اور کانوں میں حفاظتی نظام کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن اور کول مائن ورکرز یونین نے اس حادثے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ واقعہ ممکنہ طور پر حفاظتی انتظامات میں غفلت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ یونین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کان کنی کے شعبے میں حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کی جائے۔ بلوچستان میں کان کنی کے دوران پیش آنے والے حادثات ماضی میں بھی متعدد قیمتی جانیں لے چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید حفاظتی نظام، گیس کی بروقت نگرانی اور کان کنوں کی مناسب تربیت کے بغیر ایسے المناک واقعات کو روکنا ممکن نہیں۔