• News
  • »
  • قومی
  • »
  • مسجدفیضِ الٰہی معاملہ: دہلی ہائی کورٹ سے انتظامی کمیٹی کو فی الحال راحت

مسجدفیضِ الٰہی معاملہ: دہلی ہائی کورٹ سے انتظامی کمیٹی کو فی الحال راحت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 06, 2026 IST

مسجدفیضِ الٰہی معاملہ: دہلی ہائی کورٹ سے انتظامی کمیٹی کو فی الحال راحت
پرانی دہلی کے ترکمان گیٹ علاقے میں واقع فیض الٰہی مسجد کےایک حصے پرایم سی ڈی کی بلڈوزر کاروائی پر فی الحال مسجد کمیٹی انتظامیہ کو دہلی ہائی کورٹ سے راحت ملی ہے۔ واضح رہےکہ مسجد کے بیرونی حصے سے متعلق عدالت اور ایم سی ڈی کے احکامات کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ صورتحال کی روشنی میں پولیس اور انتظامیہ ہائی الرٹ رکھا گیا اور مسلسل چوکسی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس معاملے پر دہلی ہائی کورٹ میں منگل 6 جنوری کو سماعت ہوئی۔

معاملےپر سماعت مکمل 

مسجد فیضِ الٰہی سے متعلق معاملےمیں منگل کو دہلی ہائی کورٹ میں معزز  جج جسٹس امت بنسل کی بنچ نے سماعت مکمل  کی۔ سماعت کے دوران مسجد مینجمنٹ کمیٹی کی جانب سے معروف سینئر ایڈووکیٹ کرِتی اُپّل نے دلائل پیش کیے، جبکہ حکومت کی نمائندگی ایس جی اے مسٹر چیتن شرما نے ایل اینڈ ڈی او (L&DO) کی جانب سے کی۔ وہیں میونسپل کارپوریشن آف دہلی (MCD) کی طرف سے ایڈووکیٹ پودار نے اپنے دلائل رکھے۔

چار ہفتوں میں جواب دینے کی ہدایت 

تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے مدعا علیہان (Respondents) کو ہدایت دی ہے کہ وہ چار ہفتوں کے اندر پٹیشن کا جواب (Reply) داخل کریں، جس کے بعد ریجوائنڈر دائر کیا جائے گا۔

 سیوانڈیا فاؤنڈیشن کی عرضی خارج 

اس دوران سیو انڈیا فاؤنڈیشن کی جانب سے مقدمے میں فریق بننے (Implead) کی درخواست دی گئی، تاہم عدالت نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔

معاملے پراگلی سماعت 22اپریل 2026

عدالت نے آئندہ سماعت کی تاریخ 22 اپریل 2026 مقرر کی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اگرچہ عدالت نے اپنے حکم میں کسی واضح اسٹے یا عبوری حکمِ امتناعی (Interim Injunction) کا ذکر نہیں کیا، تاہم اگلی سماعت تک ایم سی ڈی کو کسی بھی قسم کی کاروائی سے باز رہنے کوکہا گیا ہے۔یہ فیصلہ مسجد فیضِ الٰہی سے وابستہ افراد اور مقامی عوام کے لیے ایک بڑی راحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

 ایم سی ڈی کا دعویٰ 

 واضح رہے 22 دسمبر 2025 کو جاری کردہ ایک حکم نامے میں، ایم سی ڈی نے کہا کہ مسجد کمپلیکس کی اضافی 0.195 ایکڑ اراضی پر قبضہ کیا گیا ہے۔ ایم سی ڈی کے مطابق اس غیر قانونی علاقے میں ایک شادی ہال اور ایک ڈسپنسری چل رہی تھی اور انہیں گرانے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ حکم کا اعلان ہوتے ہی مسجد انتظامیہ اور مقامی باشندوں نے احتجاج شروع کر دیا تھا۔اس کے بعد پولیس نے مقامی لوگوں کے ساتھ میٹنگ کی۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ڈی سی پی اور اے سی پی سمیت کئی سینئر پولیس افسران جائے وقوعہ پر پہنچے اور مسجد کا معائنہ کیا۔ عدالتی حکم کے بعد مسجد کے بیرونی حصے کی بھی پیمائش کی گئی۔

 انتظامی کمیٹی کا موقف

مسجد انتظامیہ کمیٹی کا موقف ہے کہ متنازعہ زمین دہلی وقف بورڈ کی ہے اور اس سے متعلق تمام قانونی دستاویزات وقف بورڈ پیش کرے گا۔ اس سلسلے میں مسجد کمیٹی سے وابستہ عہدیدار پہلے ہی عدالت میں درخواست دائر کر چکے ہیں۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے دہلی کی شاہی جامع مسجد کے امام احمد بخاری بھی سرگرم ہوگئے ہیں۔ اتوار کی رات گئے انہوں نے شخصی  طور پر فیض الٰہی مسجد کا دورہ کیا۔ پیر کو اس نے دہلی پولیس کمشنر سے ملاقات کی اور ان سے اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اس وقت عدالت میں ہے۔ مسجد انتظامیہ کمیٹی نے عدالت سے رجوع کرلیا۔ لہٰذا پولیس اور انتظامیہ کو اس وقت انہدامی کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔

123 وقف جائیدادوں کا معاملہ عدالت میں  

واضح رہے کہ مسجد درگاہ فیض الہٰی وقف کی 123جائیدادوں میں شامل ہے جس کا معاملہ 1984سے دہلی ہائی کورٹ میں زیر غور ہے۔