دہلی ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین کی جانب سے دائر اس اپیل پر پولیس سے جواب طلب کر لیا ہے، جس میں انہوں نے فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو، آئی بی، کے اہلکار انکت شرما کے قتل کے معاملے میں اپنی سزا اور عمر قید کو چیلنج کیا ہے۔ بدھ کے روز جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ اور جسٹس وکاس مہاجن پر مشتمل بنچ نے طاہر حسین کی اپیل کو سماعت کے لیے قبول کر لیا۔ عدالت نے معاملے کو دیگر متعلقہ اپیلوں کے ساتھ 2 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔
ہائی کورٹ نے جیل حکام کو ہدایت دی کہ مجرم سے متعلق ضروری تفصیلات ریکارڈ پر پیش کی جائیں۔ عدالت نے اس مقدمے سے متعلق ٹرائل کورٹ کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے، تاکہ سزا اور فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر تفصیلی سماعت کی جا سکے۔طاہر حسین نے اپنی اپیل میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تحقیقات کے دوران انہیں ایک سازش کے تحت نشانہ بنایا گیا اور عوامی غم و غصے کو کم کرنے کے لیے انہیں قصوروار ٹھہرانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم، اس معاملے میں عدالت کی جانب سے حتمی فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔
استغاثہ کے مطابق، انکت شرما کے والد رویندر کمار نے 26 فروری 2020 کو دیال پور پولیس اسٹیشن میں اپنے بیٹے کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی تھی۔ انکت شرما، جو انٹیلی جنس بیورو کے ملازم تھے، 25 فروری سے لاپتہ تھے۔ بعد میں ان کی لاش کھجوری خاص علاقے کے ایک نالے سے برآمد ہوئی۔استغاثہ نے الزام لگایا تھا کہ انکت شرما کے جسم پر متعدد زخموں کے نشانات تھے اور انہیں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے دوران قتل کیا گیا۔ مقدمے کی سماعت کے بعد 31 جولائی کو ٹرائل کورٹ نے طاہر حسین سمیت پانچ افراد کو قتل کے جرم میں قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ دیگر سزا یافتگان میں ناظم، قاسم، جاوید اور انس شامل ہیں۔
واضح رہے کہ 24 فروری 2020 کو شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے بعد فرقہ وارانہ تشدد بھڑک اٹھا تھا۔ اس تشدد میں کم از کم 53 افراد ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے تھے۔اب دہلی ہائی کورٹ میں طاہر حسین کی اپیل پر سماعت کے دوران پولیس اور دیگر فریقین کا موقف سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ ان کی سزا کے خلاف قانونی چیلنج پر عدالت کیا فیصلہ سناتی ہے۔