Wednesday, September 02, 2026 | 18 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • مسلمانوں سے نفرت کے الزام پر ساورکر کے پوتے کی وضاحت، عدالت میں اہم دعویٰ

مسلمانوں سے نفرت کے الزام پر ساورکر کے پوتے کی وضاحت، عدالت میں اہم دعویٰ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 02, 2026 IST

مسلمانوں سے نفرت کے الزام پر ساورکر کے پوتے کی وضاحت، عدالت میں اہم دعویٰ
وی ڈی ساورکر کے پوتے ستیاکی ساورکر نے ایک ہتک عزت مقدمے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ ان کے دادا نے کبھی مسلمانوں سے نفرت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ساورکر نے اپنی تحریروں میں مسلمانوں کی ترقی کے راستوں اور ذرائع کا ذکر کیا تھا، لیکن کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے انہیں مسلمانوں سے شدید نفرت کرنے والے شخص کے طور پر پیش کیا۔ ستیاکی ساورکر نے یہ بات 2023 میں لندن میں راہول گاندھی کی جانب سے مبینہ طور پر دیے گئے بیانات سے متعلق ہتک عزت کے مقدمے میں جرح کے دوران کہی۔
 

راہول گاندھی کے بیان کا حوالہ

جرح کے دوران وکیل پوار نے ستیاکی ساورکر سے پوچھا کہ راہول گاندھی کی تقریر میں وہ کون سے الفاظ تھے جن سے وی ڈی ساورکر کی ساکھ متاثر ہوئی۔ اس پر ستیاکی نے راہول گاندھی کے مبینہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گاندھی نے دعویٰ کیا تھا کہ ساورکر نے ایک کتاب میں لکھا کہ انہوں نے اپنے پانچ چھ دوستوں کے ساتھ مل کر ایک مسلمان نوجوان پر حملہ کیا اور اس واقعے پر خوشی محسوس کی۔  ستیاکی ساورکر نے کہا کہ اس بیان کے ذریعے ان کے دادا کو مسلمانوں سے شدید نفرت کرنے والے اور تشدد کرنے والے شخص کے طور پر پیش کیا گیا۔
 

پوتے کا کہنا ہے کہ تحریروں میں ایسا واقعہ نہیں

 ستیاکی ساورکر نے عدالت میں کہا کہ وی ڈی ساورکر نے کبھی مسلمانوں سے نفرت نہیں کی۔ ان کے مطابق ساورکر کی تحریروں میں مسلمانوں کی ترقی کے لیے راستوں اور ذرائع کا ذکر موجود ہے۔ اسی سماعت میں ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا راہول گاندھی نے ان کے خاندان کے کسی فرد کے ذاتی کردار یا ساکھ کے بارے میں عوامی طور پر کوئی الزام لگایا تھا۔ ستیاکی نے جواب دیا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ گاندھی قتل اور کپور کمیشن سے متعلق بھی سوالات ہوئے۔ ستیاکی نے مہاتما گاندھی کے قتل کو ایک سنگین اور پرتشدد واقعہ تسلیم کیا، لیکن اس بات سے اختلاف کیا کہ کپور کمیشن خاص طور پر وی ڈی ساورکر کے قتل کی سازش میں کردار معلوم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
 

مقدمہ کیوں دائر کیا گیا؟

یہ مجرمانہ ہتک عزت کا مقدمہ ستیاکی ساورکر نے راہول گاندھی کے خلاف دائر کیا ہے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ راہول گاندھی نے وی ڈی ساورکر کے بارے میں ایک ایسا دعویٰ کیا جو درست نہیں تھا۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ ساورکر کی کسی کتاب میں ایسا واقعہ موجود نہیں جس میں انہوں نے کسی مسلم نوجوان پر اپنے دوستوں کے ساتھ حملہ کرنے اور اس پر خوشی کا اظہار کرنے کا ذکر کیا ہو۔
 

گوپال گوڈسے کے انٹرویوں کا بھی حوالہ

سماعت کے دوران وکیل پوار نے ستیاکی ساورکر کے دادا گوپال گوڈسے کا 2004 کا ویڈیوں انٹرویوں اور اس کی نقل بھی عدالت میں پیش کی۔ گوپال گوڈسے نے مبینہ طور پر اس انٹرویوں میں کہا تھا کہ ان کے بھائی نتھورام گوڈسے آر ایس ایس کے رکن تھے۔ نتھورام گوڈسے مہاتما گاندھی کے قتل کے مرکزی ملزمان میں شامل تھے، جبکہ گوپال گوڈسے بھی اس مقدمے میں شریک سازشی قرار دیے گئے تھے۔ یہ مقدمہ اب عدالت میں جاری ہے اور سماعت کے دوران راہول گاندھی کے مبینہ بیان اور وی ڈی ساورکر کی تحریروں سے متعلق دعوؤں پر جرح جاری ہے۔