Wednesday, September 02, 2026 | 18 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • جی ایچ ایم سی میں ڈبل بلنگ کا معاملہ، 6.92 کروڑ کی بے ضابطگی سامنے آئی

جی ایچ ایم سی میں ڈبل بلنگ کا معاملہ، 6.92 کروڑ کی بے ضابطگی سامنے آئی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 02, 2026 IST

جی ایچ ایم سی میں ڈبل بلنگ کا معاملہ، 6.92 کروڑ کی بے ضابطگی سامنے آئی
حیدرآباد گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (GHMC) میں ڈبل بلنگ اور زائد ادائیگیوں کے الزامات نے ہلچل مچا دی ہے۔ الزام ہے کہ 200 سے زیادہ ٹھیکیداروں کو مبینہ طور پر ایک ہی کام کے لیے دوبارہ ادائیگی کی گئی یا ضرورت سے زیادہ رقم دی گئی۔ ویجیلنس انکوائری کے بعد جی ایچ ایم سی نے اپنے مالیاتی مشیر, کے سرتھ چندرا کو ان کے اصل محکمے میں واپس بھیج دیا ہے۔  جی ایچ ایم سی کا کہنا ہے کہ ابھی تک سامنے آئی مبینہ بے ضابطگیوں کی رقم 6.92 کروڑ روپے ہے۔ ادارے کے مطابق یہ رقم بھی عارضی ہے اور مزید جانچ کے بعد رقم بڑھ سکتی ہے۔

ویجیلنس رپورٹ کے بعد کاروائی

یہ کاروائی ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، ویجیلنس کی جانب سے کی گئی انکوائری کی بنیاد پر ہوئی۔ ویجیلنس رپورٹ 28 اگست کو پیش کی گئی تھی۔ جی ایچ ایم سی کے مطابق سرتھ چندر کو 29 اگست کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ 

کمشنر آر وی کرنن  نے کیا کہا؟

جی ایچ ایم سی کمشنر آر وی کرنن نے منگل کو بتایا کہ سرتھ چندر کو مزید احکامات کے لیے ریاستی آڈٹ ڈائریکٹر کے سامنے رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق معاملے کا پتہ خود جی ایچ ایم سی نے لگایا اور یہ کہنا درست نہیں کہ کسی نے باہر سے اس معاملے کو بے نقاب کیا ہے۔ کمشنر آر وی کرنن نے یہ بھی کہا ہے کہ ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ معاملے میں جان بوجھ کر بے ضابطگی ہوئی یا نہیں۔  محکمانہ انکوائری اور خصوصی آڈٹ سے یہ واضح ہوگا، اور اگر جان بوجھ کرغلط کام یا مجرمانہ ارادہ ثابت ہوا تو فوجداری کاروائی کی جائے گی۔

کئی ٹھیکیداروں کو مبینہ طور پر ڈبل ادائیگی

ڈبل ادائیگیوں کا تعلق 'TReDS' نظام سے بھی بتایا گیا ہے۔ یہ ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے" GHMC" ٹھیکیداروں کے زیرِ التوا بلوں کی ادائیگی کرتی ہے۔ "GHMC" کمشنر کے مطابق "TReDS" پلیٹ فارم فراہم کرنے والوں نے تسلیم کیا کہ ان کا ڈپلیکیٹ بل روکنے والا نظام ایک ہی انوائس کو ایک یا مختلف پلیٹ فارمز پر دوبارہ اپ لوڈ ہونے سے نہیں روک سکا۔

تقریباً روپے واپس لیے گئے

ان میں سے 74 انوائسز سے متعلق 6.83 کروڑ روپے پہلے ہی وصول کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی 8.35 لاکھ روپے کے لیے ڈیمانڈ ڈرافٹ موصول ہو چکے ہیں اور انہیں "GHMC" کے جنرل فنڈ میں جمع کیا جا رہا ہے۔

مزید ٹھیکیداروں کی بھی جانچ

مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے سامنے آنے کے بعد حکام اب دوسرے ٹھیکیداروں کے ریکارڈ کی بھی جانچ کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں انہیں بھی ڈپلیکیٹ یا زائد ادائیگیاں تو نہیں کی گئیں۔ اضافی رقم کی وصولی کے لیے بھی کاروائی جاری ہے۔

کمپیوٹر آپریٹر کے خلاف بھی کاروائی کا امکان

حکام متعلقہ شعبے میں کام کرنے والے ایک کمپیوٹر آپریٹر کے کردار کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ اس کے خلاف کاروائی اور ممکنہ برطرفی کی فائل زیرِ غور ہے۔ فی الحال تحقیقات جاری ہیں اور یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ مبینہ بے ضابطگیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری مقدمات یا معطلی جیسی مزید کاروائی کی جائے گی یا نہیں۔