ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تین روپے فی لیٹر اضافے کے بعد دہلی میں عام لوگوں کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق دہلی میں پٹرول 97.77 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 90.67 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ قیمتوں میں اضافے نے نہ صرف روزانہ سفر کو مہنگا کر دیا ہے بلکہ گھریلو بجٹ پر بھی اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔
دہلی کے دھولا کنواں علاقے میں واقع ایک پٹرول پمپ پر شہریوں نے اس فیصلے پر مختلف ردعمل دیا۔ کچھ لوگوں نے حکومت کے فیصلے کو عالمی حالات کے تناظر میں درست قرار دیا، جبکہ کئی افراد نے شدید ناراضی کا اظہار کیا۔
ایک صارف نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ حیران کن نہیں۔ اس کے مطابق دنیا بھر میں جنگی حالات، تیل کی قلت اور بڑھتی مانگ نے عالمی منڈی کو متاثر کیا ہے، جس کا اثر بھارت پر بھی پڑنا فطری ہے۔ اس نے کہا کہ اگرچہ قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے مشکل ضرور ہے، لیکن ایک ذمہ دار شہری کے طور پر وسیع تر حالات کو سمجھنا چاہیے۔
اسی شخص نے مزید کہا کہ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے مہنگائی میں اضافہ یقینی ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے ہر چیز کی قیمت متاثر ہوتی ہے۔ اس کے باوجود، اس نے حکومت کے فیصلے کو سوچ سمجھ کر کیا گیا اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
دوسری جانب ایک اور شہری نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت واقعی اخراجات کم کرنا چاہتی ہے تو عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے سیاستدانوں کی سہولیات کم کی جائیں۔ اس نے کہا کہ ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کو متعدد پنشنز لینے کے بجائے صرف ایک پنشن تک محدود ہونا چاہیے۔ اس کے مطابق سیاستدان انتہائی کم قیمت پر سرکاری کینٹینوں میں کھانا حاصل کرتے ہیں جبکہ عام آدمی کو ایک وقت کے کھانے کے لیے بھی سو روپے یا اس سے زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے ایک بار پھر مہنگائی، حکومتی پالیسیوں اور عوامی مشکلات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ شہریوں کو خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا بھی مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔