Saturday, February 28, 2026 | 10 رمضان 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • ذیابیطس( شوگر): ایک خاموش مگر خطرناک مرض

ذیابیطس( شوگر): ایک خاموش مگر خطرناک مرض

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 28, 2026 IST

ذیابیطس( شوگر): ایک خاموش مگر خطرناک مرض
ذیابیطس آج کے دور کا ایک نہایت عام مگر پیچیدہ مرض ہے، جسے اکثر لوگ صرف “شوگر” سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ منصف ٹی وی کے مقبول پروگرام ہیلتھ اور ہم میں حیدرآباد کے اولیو ہاسپٹل، نانل نگر کے جنرل فزیشن ڈاکٹر راجہ رمیش نے ذیابیطس کے اسباب، علامات، پیچیدگیوں اوراس کے مؤثر کنٹرول کے حوالے سے تفصیلی رہنمائی فراہم کی۔

شوگر یا ذیابیطس کیا ہے

ڈاکٹر راجہ رمیش کے مطابق ذیابیطس محض خون میں شوگر کی زیادتی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک میٹابولک بیماری ہے، جس کا تعلق انسولین ہارمون اور جسم کے اندر اس کے درست استعمال سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ذیابیطس کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں: ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو۔ ٹائپ ون عموماً بچوں میں پائی جاتی ہے، جس میں جسم انسولین بنانا تقریباً بند کر دیتا ہے اور مریض کو براہِ راست انسولین کے انجیکشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس زیادہ تر بالغ افراد میں ہوتی ہے اور اس کی بڑی وجہ “انسولین ریزسٹنس” یعنی جسم کا انسولین کو مؤثر طریقے سے استعمال نہ کر پانا ہے۔

ویزیرل فیٹ خطرناک ہے

انہوں نے خاص طور پر پیٹ کے گرد جمع ہونے والی چربی، جسے “ویزیرل فیٹ” کہا جاتا ہے، کو خطرناک قرار دیا۔ یہ چربی جگر، لبلبہ اور دیگر اندرونی اعضاء کے گرد جمع ہو کر انسولین کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہے، جس سے شوگر لیول کنٹرول میں نہیں رہتا۔ اسی لیے وزن میں کمی اور متوازن غذا ذیابیطس کے کنٹرول میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

 کونسی غذا ئیں خون میں شوگرکومتوازن رکھتے ہیں

ڈاکٹر رمیش کے مطابق خوراک میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار اور معیار دونوں اہم ہیں۔ سفید چاول، میدہ اور پراسیسڈ فوڈ جلد ہضم ہو کر شوگر میں تیزی سے اضافہ کرتے ہیں، جبکہ براؤن رائس، جَو، باجرہ اور دیگر پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس آہستہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں اور خون میں شوگر کو متوازن رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقدار کا خیال رکھنا بھی بے حد ضروری ہے، کیونکہ زیادہ کھانا— اگر وہ صحت بخش ہو—شوگر بڑھا سکتا ہے۔

 ذہنی دباؤ (اسٹریس) شوگر لیول بگڑنے کا سبب

انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ ذہنی دباؤ (اسٹریس) شوگر لیول میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ اسٹریس کے دوران جسم میں کارٹیسول اور ایڈرینالین جیسے ہارمونز خارج ہوتے ہیں، جو جگر سے گلوکوز کے اخراج کو بڑھا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بغیر کچھ کھائے بھی شوگر لیول بڑھ جاتا ہے۔

ایچ بی اے ون سی (HbA1c) ٹیسٹ کی اہمیت

ایچ بی اے ون سی (HbA1c) ٹیسٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر رمیش نے بتایا کہ یہ ٹیسٹ گزشتہ تین ماہ کے دوران شوگر کے اوسط لیول کی نشاندہی کرتا ہے۔ روزانہ کی ریڈنگ وقتی ہو سکتی ہے، مگر HbA1c سے پتہ چلتا ہے کہ طویل مدت میں شوگر کس حد تک کنٹرول میں رہی۔

 شوگرکا کنٹرول نہیں ہونا اعضا کو شدید نقصان پہنچاتا ہے

انہوں نے خبردار کیا کہ غیر کنٹرول شدہ ذیابیطس گردوں، آنکھوں، دل اور اعصاب کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ بلند فشارِ خون اور کولیسٹرول بھی اس خطرے کو دوگنا کر دیتے ہیں، اس لیے ان کا کنٹرول بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا شوگر کا۔

 چہل قدمی اور متوازن غذا سے کنٹرول ممکن 

آخر میں ڈاکٹر رمیش نے زور دیا کہ روزانہ کم از کم 30 منٹ تیز قدموں سے چہل قدمی، متوازن غذا، وزن میں کمی اور باقاعدہ طبی معائنہ ذیابیطس کے مؤثر کنٹرول کے بنیادی ستون ہیں۔ ان کے مطابق بعض مریضوں میں وزن کم ہونے سے بیماری “ری میشن” کی حالت میں جا سکتی ہے، مگر مکمل علاج کا دعویٰ درست نہیں۔

 بروقت علاج سے شوگر کو کیا جاسکتا ہےکنٹرول 

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس ایک خاموش مرض ضرور ہے، مگر بروقت تشخیص، احتیاط اور طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیوں کے ذریعے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔قارئین ڈاکٹر کی مکمل گفتگو آپ یہاں دیکھ سکتےہیں۔