اسلام کے پانچ ارکان میں سے زکوٰۃ ایک اہم ترین مالی عبادت ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر نماز کے ساتھ ذکر فرمائی ہے۔ قرآن پاک میں تقریباً 32 مقامات پر نماز کے فوراً بعد زکوٰۃ کا ذکر ہے، جو اس کی عظمت اور اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی زکوٰۃ کو ایمان کی تکمیل اور مال کی پاکیزگی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
زکوٰۃ کی ادائیگی ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر لازم ہے
زکوٰۃ کے لغوی معنی پاکیزگی، نمو اور اضافہ کے ہیں۔ یہ مال کی نجاست اور گندگی کو دور کرتی ہے اور اس میں برکت پیدا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ"
(یعنی جو زکوٰۃ تم اللہ کی رضا کے لیے دیتے ہو، وہی لوگ مال میں اضافہ کرنے والے ہیں۔)
زکوٰۃ کی حکمت یہ ہے کہ مالداروں کے مال میں غریبوں کا حق رکھا گیا ہے۔ یہ کوئی احسان نہیں بلکہ غریب کا حق ہے جو مالدار ادا کرتا ہے۔ اگر زکوٰۃ نہ ادا کی جائے تو مال ناپاک ہو جاتا ہے اور قیامت کے دن اس مال کی صورت سانپ بن کر مالک کو ڈسے گا، جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔
زکوٰۃ کب فرض ہوتی ہے؟
زکوٰۃ ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے جو عاقل، بالغ، آزاد اور صاحبِ نصاب ہو، اور اس کے نصاب پر قمری سال (حولانِ حول) گزر جائے۔ نصاب سے مراد کم از کم مقدار ہے جو مال پر زکوٰۃ واجب کرتی ہے۔
نصاب کی مقدار (موجودہ دور میں)
سونے کا نصاب: ساڑھے سات تولہ (تقریباً 87.48 گرام) یا اس سے زیادہ۔
چاندی کا نصاب: ساڑھے باون تولہ (تقریباً 612.36 گرام) یا اس سے زیادہ۔
اگر سونا اور چاندی دونوں ہوں، یا نقدی، مالِ تجارت وغیرہ شامل ہوں تو مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کی قیمت کے برابر ہو تو زکوٰۃ فرض ہے (فقراء کے فائدے کے لیے چاندی کا نصاب ترجیحی ہے)۔ نقدی یا تجارت کا سامان بھی اگر چاندی کے نصاب کی قیمت تک پہنچ جائے تو زکوٰۃ واجب ہے۔ زکوٰۃ کی مقدارعام اموال (سونا، چاندی، نقدی، تجارت) پر 2.5 فیصد (چالیسواں حصہ) زکوٰۃ نکالنی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر: اگر مال کی مالیت 1 لاکھ روپے ہے تو زکوٰۃ 2,500 روپے ہوگی۔
زکوٰۃ کن اموال پر واجب ہے؟
سونا، چاندی (زیورات سمیت اگر نصاب تک پہنچ جائیں)
نقد رقم (بینک میں، گھر میں)
مالِ تجارت (بیچنے کی نیت سے سامان)
زرعی پیداوار پر عشر (بارانی زمین پر 10 فیصد، مصنوعی سیرابی پر 5 فیصد)
زکوٰۃ کن پر نہیں؟
ضروریات اصلیہ پر (گھر، سواری، کپڑے، برتن وغیرہ)
مشینری یا آلات پر (اگر تجارت کے لیے استعمال نہ ہوں)
رہائشی مکان یا زمین پر (اگر بیچنے کی نیت نہ ہو)
زکوٰۃ کسے دی جائے؟
زکوٰۃ مستحقین میں دی جائے جو فقیر، مسکین، غریب ہوں (سیدوں کو نہیں دی جا سکتی)۔ رشتہ داروں میں اگر کوئی مستحق ہو تو انہیں دینا افضل ہے (صدقہ اور صلہ رحمی دونوں کا ثواب)۔ اگر مستحق غلط استعمال کا خدشہ ہو تو ضروری اشیاء (کھانا، کپڑے وغیرہ) خرید کر دیں۔
فضیلت اور وعید زکوٰۃ ادا کرنے سے مال پاک ہوتا ہے، برکت آتی ہے اور اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ نہ ادا کرنے والے کے لیے سخت وعید ہے کہ قیامت کے دن اس مال سے عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس فرض کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
مکمل جانکاری کے لیے یہاں ویڈیو کلک کریں👇