• News
  • »
  • صحت
  • »
  • دانت پیسنےکی عادت( برکسزم) علامات وجوہات اور علاج

دانت پیسنےکی عادت( برکسزم) علامات وجوہات اور علاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 14, 2026 IST

دانت پیسنےکی عادت( برکسزم) علامات وجوہات اور علاج
منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Bruxism: Symptoms, Causes & Treatment" کے موضوع پر خصوصی گفتگو پیش کی گئی۔ اس پروگرام میں معروف کاسمیٹک ڈینٹل سرجن ڈاکٹر ثمینہ علی نے برکسزم، یعنی دانت پیسنے یا دانتوں کو زور سے بھینچنے کی عادت، اس کی وجوہات، علامات، ممکنہ پیچیدگیوں اور جدید علاج کے طریقوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

نظرانداز کیا جانے والا مسئلہ 

ڈاکٹر ثمینہ علی نے بتایا کہ برکسزم ایک عام مگر اکثر نظر انداز کیا جانے والا مسئلہ ہے، جس میں انسان غیر ارادی طور پر دانتوں کو زور سے بھینچتا یا پیستا ہے۔ یہ عمل دن کے وقت بھی ہو سکتا ہے، تاہم زیادہ تر افراد نیند کے دوران اس کا شکار ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں خود اس مسئلے کا علم بھی نہیں ہو پاتا۔

 وجوہات 

انہوں نے کہا کہ برکسزم کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں ذہنی دباؤ، بے چینی، نیند کی خرابی، دانتوں کی غیر متوازن ساخت، بعض اعصابی مسائل اور طرزِ زندگی سے متعلق عوامل شامل ہیں۔ کیفین کا زیادہ استعمال، تمباکو نوشی اور بعض ادویات بھی اس کیفیت کو بڑھا سکتی ہیں۔

 علامات

علامات کے حوالے سے ڈاکٹر نے بتایا کہ صبح اٹھنے پر جبڑوں میں درد یا اکڑن، بار بار سر درد، دانتوں کی حساسیت، دانتوں کا گھس جانا، دانتوں میں دراڑیں، چبانے میں دشواری اور بعض اوقات کان کے قریب درد بھی برکزم کی علامات ہو سکتی ہیں۔ اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو دانت مستقل طور پر متاثر ہو سکتے ہیں، مسوڑھوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور جبڑے کے جوڑ (TMJ) میں بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

 تشخیص 

تشخیص کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ڈینٹل معائنہ، دانتوں کے گھساؤ کا جائزہ، ایکسرے اور مریض کی علامات کی بنیاد پر بیماری کی تشخیص کی جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں نیند سے متعلق معائنہ بھی ضروری ہو سکتا ہے۔

 علاج

علاج کے حوالے سے ڈاکٹر ثمینہ علی نے بتایا کہ برکسزم  کا علاج اس کی بنیادی وجہ کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اگر ذہنی دباؤ اس کی وجہ ہو تو اسٹریس مینجمنٹ، مناسب نیند، ریلیکسیشن تکنیک اور طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ دانتوں کے تحفظ کے لیے Night Guard یا Occlusal Splint استعمال کیا جاتا ہے، جو نیند کے دوران دانتوں کو نقصان سے بچاتا ہے۔ اگردانتوں کی ساخت میں خرابی ہو تو ڈینٹل کریکشن یا دیگر جدید طریقہ علاج بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔

 ڈاکٹرکا مشورہ 

انہوں نے ناظرین کو مشورہ دیا کہ اگر انہیں بار بار جبڑے میں درد، دانتوں کی حساسیت یا صبح کے وقت سر درد کی شکایت رہتی ہو تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں، بلکہ فوری طور پر مستند ڈینٹل سرجن سے رجوع کریں۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج نہ صرف دانتوں کو مستقل نقصان سے بچاتا ہے بلکہ مریض کی نیند، روزمرہ کارکردگی اور مجموعی معیارِ زندگی کو بھی بہتر بناتا ہے۔

صحت مند دانت، صحت مندی کی علامت

پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر ثمینہ علی نے اس بات پر زور دیا کہ صحت مند دانت صرف خوبصورت مسکراہٹ ہی نہیں بلکہ اچھی جسمانی صحت کی بھی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ ڈینٹل چیک اپ، متوازن غذا، ذہنی دباؤ پر قابو اور مناسب نیند برکزم سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
 
قارئین آپ ڈاکٹرثمینہ علی کی یہ ویڈیو یہاں دیکھ سکتےہیں۔ اورساتھ ہی دانتوں کےامراض پر ان کے دیگر ویڈیوز بھی منصف ٹی وی ہیلتھ پر دیکھ سکتےہیں۔