Saturday, February 07, 2026 | 19, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • سراور گردن کا کینسر: بروقت تشخیص سے بچائی جا سکتی ہےجان

سراور گردن کا کینسر: بروقت تشخیص سے بچائی جا سکتی ہےجان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 06, 2026 IST

سراور گردن کا کینسر: بروقت تشخیص سے بچائی جا سکتی ہےجان
ہیڈ اینڈ نیک کینسر(سراور گردن کا کینسر) ایک سنگین لیکن قابلِ علاج بیماری ہے، بشرطیکہ اس کی بروقت تشخیص اور صحیح علاج کیا جائے۔ یہ بات اپولو ہاسپٹلس، جوبلی ہلز حیدرآباد کے سینئر کنسلٹنٹ ہیڈ اینڈ نیک آنکو سرجن ڈاکٹر ارشد حسین حکیم نے منصف ٹی وی کے خاص پروگرام  ہیلتھ پروگرام کے دوران کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں ہیڈ اینڈ نیک کینسر کی سب سے بڑی وجہ تمباکو، گٹکھا، سپاری اور الکحل کا استعمال ہے۔

سراور گردن کا کینسر کیسے کہتے ہیں

ڈاکٹر ارشد حسین کے مطابق ہیڈ اینڈ نیک کینسر منہ، زبان، گال، ہونٹ، جبڑا، گلا، آواز کی نالی، لعاب کے غدود اور گردن کے غدود میں ہو سکتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جسم میں خلیات کی غیر معمولی اور بے قابو بڑھوتری کو کینسر کہا جاتا ہے، اور یہی عمل ان حصوں میں کینسر کا سبب بنتا ہے۔

 کیا ہیں ابتدائی علامات 

انہوں نے بتایا کہ منہ میں سفید یا سرخ دھبے، بار بار ہونے والے زخم، منہ کا کم کھلنا، آواز میں بھاری پن، نگلنے میں دشواری، دانتوں کا ہلنا یا گردن میں بغیر درد کی گلٹی — یہ سب ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں، جنہیں اکثر لوگ نظرانداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ یہی علامات بعد میں خطرناک کینسر کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔

 کینسرکےخطرے کو بڑھانےوالےعوامل 

ڈاکٹر ارشد حسین نے کہا کہ تمباکو اور الکحل کا ایک ساتھ استعمال کینسر کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ الکحل، تمباکو میں موجود مضر کیمیکلز کو جسم میں تیزی سے جذب ہونے میں مدد دیتی ہے، جس سے کینسر کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) بھی گلے اور زبان کے پچھلے حصے کے کینسر کی ایک اہم وجہ بن رہا ہے، جو مغربی ممالک میں زیادہ پایا جاتا ہے اور مستقبل میں ہندوستان میں بھی بڑھ سکتا ہے۔

 ابتدائی اسٹیج میں تشخیص سےمکمل صحت یابی ممکن 

علاج کے حوالے سے ڈاکٹر ارشد حسین نے بتایا کہ ابتدائی اسٹیج میں تشخیص ہونے پر سرجری یا ریڈیوتھراپی سے 80 سے 90 فیصد مریض مکمل صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ تاہم، دیر سے تشخیص ہونے پر علاج مشکل اور کامیابی کا تناسب کم ہو جاتا ہے۔ تشخیص کے لیے کلینیکل معائنہ، اینڈوسکوپی اور بایوپسی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی بیماری کی اسٹیج جانچنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

صحت کی برقراری کےلئے مشورہ 

 عوام کو مشورہ دیا کہ تمباکو اور الکحل سے مکمل پرہیز کریں، صحت مند غذا اپنائیں، سبزیاں اور پھل زیادہ استعمال کریں، اور کسی بھی مشتبہ علامت کی صورت میں فوری طور پر ماہرڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ “بچاؤ ہی بہترین علاج ہے، اورصحت مند طرزِ زندگی ہی کینسرسے بچنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ ڈاکٹر ارشد حسین  سے مکمل بات چیت کا ویڈیو آپ یہاں دیکھ  سکتےہیں۔