Wednesday, February 04, 2026 | 16, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • گردوں کی بیماری کی ابتدائی علامات اور علاج

گردوں کی بیماری کی ابتدائی علامات اور علاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Feb 02, 2026 IST

 گردوں کی بیماری کی ابتدائی علامات اور علاج
منصف ٹی وی کی جانب سے نشر کیے جانے والے خصوصی پروگرام 'ہیلتھ اور ہم'میں آج ایک نہایت اہم اور سنجیدہ مرض Chronic Kidney Disease (دائمی گردوں کی بیماری) پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس پروگرام میں معروف ماہرِ صحت ڈاکٹر اے۔ ساشی کرن نے اس مرض کی وجوہات، علامات، تشخیص اور علاج و احتیاطی تدابیر پر جامع روشنی ڈالی۔
 
مکمل جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:
 

ماہرِ صحت  کے مطابق دائمی گردوں کی بیماری ایک ایسا عارضہ ہے جس میں گردے بتدریج اپنا کام کرنا کم کر دیتے ہیں۔ یہ بیماری اچانک نہیں ہوتی بلکہ وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ بڑھتی ہے، اسی لیے اکثر مریضوں کو ابتدائی مراحل میں اس کا علم ہی نہیں ہو پاتا۔ گردوں کا بنیادی کام خون کو صاف کرنا، فاضل مادّوں کو پیشاب کے ذریعے خارج کرنا اور جسم میں پانی و نمکیات کا توازن برقرار رکھنا ہے۔ جب یہ عمل متاثر ہو جائے تو جسم میں زہریلے مادّے جمع ہونے لگتے ہیں۔
 
پروگرام میں بتایا گیا کہ ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر دائمی گردوں کی بیماری کی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ موٹاپا، تمباکو نوشی، غیر متوازن غذا، درد کش ادویات کا حد سے زیادہ استعمال اور موروثی عوامل بھی اس بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔ بعض اوقات گردوں کے انفیکشن یا پیشاب کی نالی کی رکاوٹ بھی اس مرض کو جنم دیتی ہے۔
 
ڈاکٹر نے اس بات پر زور دیا کہ اس بیماری کی علامات ابتدا میں بہت معمولی ہوتی ہیں، جن میں تھکن، بھوک میں کمی، متلی، پیروں اور چہرے پر سوجن، پیشاب کی مقدار میں کمی یا زیادتی، اور سانس کا پھولنا شامل ہیں۔ بیماری بڑھنے کی صورت میں خون کی کمی، ہڈیوں کی کمزوری اور دل کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
 
علاج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر بیماری ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائے تو ادویات، متوازن غذا، بلڈ پریشر اور شوگر کو کنٹرول میں رکھ کر اس کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے۔ نمک اور پروٹین کا محدود استعمال، پانی کا درست مقدار میں استعمال اور باقاعدہ طبی معائنہ نہایت ضروری ہے۔ شدید مراحل میں ڈائیلاسس یا گردے کی پیوندکاری واحد مؤثر حل بن جاتا ہے۔
 
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر اے۔ ساشی کرن نے ناظرین کو یہ پیغام دیا کہ صحت مند طرزِ زندگی، باقاعدہ چیک اپ اور علامات کو نظر انداز نہ کرنا ہی دائمی گردوں کی بیماری سے بچاؤ کا بہترین طریقہ ہے۔