کل ہند مجلس اتحاد المسلیمن متعمد عمومی اور کے سابق رکن اسمبلی جناب سید احمد پاشاہ قادری کا منگل 3 فروری کو طویل علالت کے باعث انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کی خبر سے سیاسی اور سماجی حلقوں میں گہرےرنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ نماز جنازہ چہارشنبہ 4 فروری کو بعد نماز ظہر(جماعت 1.20) جامع مسجد حکیم میر وزیرعلی فتح دروازہ میں ادا کی جائے گی اور تدفین احاطہ مسجد حضرت سید محی الدین پاشاہ زرین کلاہؒ نور خاں بازار میں عمل میں آئے گی۔
مجلس کےسچے سپاہی نہیں رہے
مجلس کارکنان اور عوام کی جانب سے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ پا شاہ قادری کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ وہ مجلس کے ایک سچے سپاہی تھے۔ کسی بھی مسئلہ پر وہ سب سےپہلے موقع پر پہنچ جاتے تھے۔ احمد پاشاہ قادری اپنی طبیعت ٹھیک نہ ہونے کے باوجود بھی عوام کےلئے ہمیشہ دستیاب ہوتے تھے۔
سلطان صلاح الدین اویسی کے با اعتماد رفیق تھے
احمد پاشاہ قادری سابق مجلسی صدر سلطان صلاح الدین اویسی کے قابل اعتماد اور قریبی دوست تھے۔ وہ سالارملت صلاح الدین اویسی کے گھرکسی بھی وقت جاسکتے تھے۔ صدر مجلس بیرسٹراسد الدین اویسی اور تلنگانہ اسمبلی میں مجلس کےفلور لیڈر اکبرالدین اویسی سمیت دیگر سیینئر لیڈر ان کی تعظیم کرتے تھے۔
سید احمد پاشاہ قادری کا سیاسی کیریئر
سید احمد پاشاہ قادری نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1986 میں میونسپل کارپوریشن حیدرآباد میں کارپوریٹر کے طور پر کیا، دبیر پورہ وارڈ کی نمائندگی کی۔ سیاست میں ان کا عروج مسلسل انتخابی کامیابی اور عوام کے ساتھ مضبوط رابطہ تھا۔ پاشاہ قادری نے پہلی مرتبہ سال 2004ء میں چارمینارحلقہ اسمبلی سے کامیابی حاصل کی اور 2009، 2014ء اور 2018ء کے اسمبلی انتخابات میں اسے برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ 2018 سے 2023 تک یاقوت پورہ حلقہ اسمبلی کی نمائندگی کی۔وہ چار مرتبہ رکن اسمبلی چنے گئے۔
پارٹی تنظیم میں کردار
اے آئی ایم آئی ایم کے دیرینہ جنرل سکریٹری کے طور پر، قادری اپنے تنظیمی نظم و ضبط، پارٹی کے ساتھ غیر متزلزل وفاداری، اور کیڈرز کو متحرک کرنے کی صلاحیت کے لیے جانے جاتے تھے۔ پارٹی قائدین اور کارکنان بڑے پیمانے پر انہیں قیادت اور نچلی سطح کے کارکنوں کے درمیان پل کے طور پر دیکھتے تھے۔
ذاتی زندگی
سید احمد پاشا قادری نے پسماندگان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ ان کا انتقال اے آئی ایم آئی ایم کے لیے ایک دور کے خاتمے کہا جاسکتا ہے، سیاسی میدان کے تمام رہنماؤں نے تعزیت کا اظہار کیا اور عوامی زندگی میں ان کی دہائیوں کی طویل شراکت کو یاد کیا۔