مشرق وسطیٰ میں ایک نئے دفاعی اتحاد کی بات ہو رہی ہے، جس میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان شامل ہیں۔ اس اتحاد کو بعض لوگ غیر رسمی طور پر "اسلامی نیٹو" بھی کہہ رہے ہیں۔اس معاہدے کے تحت اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک کے خلاف حملہ سمجھا جائے گا۔ فی الحال اس اتحاد میں صرف سعودی عرب، ترکی اور پاکستان شامل ہیں، لیکن مستقبل میں مزید ممالک بھی اس کا حصہ بن سکتے ہیں۔
مصر بھی اتحاد میں شامل ہو سکتا ہے
ترکی کے وزیر خارجہ فیدان نے کہا ہے کہ مستقبل میں مصر بھی اس مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔فیدان کے مطابق یہ اتحاد صرف تین ممالک تک محدود نہیں رہے گا۔ وقت کے ساتھ مزید ممالک کو بھی اس میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کئی ممالک نے اس اتحاد میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، انہوں نے خاص طور پر مصر کا نام لیا۔ یہ اتحاد سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان کئی سال تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد وجود میں آیا ہے۔
کیا یہ اتحاد ایران کے خلاف ہے؟
اس اتحاد کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس کا مقصد ایران کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے؟ فیدان نے اس تاثر کو واضح طور پر رد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اس اتحاد کا ہدف نہیں ہے اور یہ ایک دفاعی اتحاد ہے۔ فیدان کے مطابق جب تک کسی رکن ملک پر حملہ نہیں ہوتا، یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف کاروائی نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو ملک ان پر حملہ نہیں کرتا، وہ ان کا ہدف نہیں ہے۔
سعودی عرب کے لیے یہ اتحاد کیوں اہم ہے؟
یہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اسے خطے میں مختلف سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سعودی عرب کو عراق میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں اور یمن میں حوثیوں کی جانب سے حملوں کا خطرہ رہا ہے۔ اسی وجہ سے سعودی عرب کے لیے اپنے دفاع کو مزید مضبوط کرنا اہم ہے۔
ایران کا ردعمل بھی سامنے آگیا
ایران نے بھی اس معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن ابراہیم رضائی نے کہا کہ سعودی عرب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ صرف ترکی اور پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنے سے اسے مکمل سیکیورٹی حاصل نہیں ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کے باوجود سعودی عرب کو مکمل سیکیورٹی نہیں ملی، اس لیے نیا معاہدہ بھی ہر مسئلے کا حل نہیں ہے۔
اس اتحاد کا مقصد فوری طور پر کسی ملک کے خلاف جنگ کرنا نہیں ہے۔ سعودی سیکیورٹی تجزیہ کار ہشام الغانم کے مطابق، مختصر مدت میں ان تینوں ممالک کے کسی جارحانہ کاروائی میں شامل ہونے کا امکان کم ہے۔ اگر سعودی عرب پر مسلسل حملے ہوتے رہے اور صورتحال مزید خراب ہوئی تو پاکستان سعودی عرب کے دفاعی نظام اور فضائی دفاع میں زیادہ مدد کر سکتا ہے، جبکہ ترکی دفاعی ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے شعبے میں اپنا تعاون بڑھا سکتا ہے۔