آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اتوار کے روز الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کمشنر پر زور دیا کہ وہ ان شکایات پر فوری غور کریں کہ بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل او ایس) 9 اور 10 اگست کو عوامی تعطیلات کا حوالہ دیتے ہوئے مبینہ طور پر (اینومریشن فارمز) گنتی کے فارم قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔
اویسی نے ای سی آئی اور جی ایچ ایم سی کمشنر کے سرکاری ہینڈلز کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں معاملہ اٹھایا۔
اویسی نے ایکس پر کہا۔"کل سے، ہمیں اپنے SIR گائیڈنس ڈیسک پر لوگوں کی طرف سے بہت سی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ BLOs نے انہیں واضح طور پر بتایا ہے کہ وہ 9 اگست کو (بونال) اور 10 اگست کو (رنگم عام تعطیل) کو گنتی کے فارم نہیں لیں گے،"۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی لوگوں نے مبینہ طور پر یہ اطلاع ملنے کے بعد تشویش کی حالت میں گائیڈنس ڈیسک سے رابطہ کیا کہ دو دن تک ان کے فارم قبول نہیں کیے جائیں گے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ نے کہا، ’’بہت سے لوگوں کو ہیلپ ڈیسک پر گھبراہٹ میں دیکھا گیا۔
اویسی نے مزید کہا کہ، الیکشن کمیشن کے مطابق، لوگوں کے پاس 10 اگست تک کا وقت ہے کہ وہ اپنے گنتی فارم جمع کرائیں۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اہل افراد کو مقررہ مدت کے اندر عمل مکمل کرنے کے موقع سے محروم نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا۔"براہ کرم اس پر غور کریں،ایس آئی آر ، کیونکہ الیکشن کمیشن کے مطابق، لوگوں کے پاس 10 اگست تک کا وقت ہے، جس پر یہ BLO چھٹیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کام کرنے کو تیار نہیں ہیں،"
تعطیل کے باوجود ڈیوٹی پر ہیں بی ایل اوز
جی ایچ ایم سی کمشنر، ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر آر وی کرنان نے وضاحت کی ہے کہ بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل او) سے لے کر اعلیٰ عہدیداروں تک سرکاری تعطیلات کے باوجود اتوار اور پیر کو ڈیوٹی پر ہوں گےیہ پیشرفت جاری انتخابی مشق کے درمیان سامنے آئی ہے جس میں BLOS گنتی کے فارم کی تقسیم اور جمع کرنے اور ووٹروں کو مطلوبہ رسمی کاروائیوں میں مدد کرنے میں شامل ہے۔
تلنگانہ بی جےپی صدر کی پارٹی کارکنوں کو ہدایت
بی جے پی لیڈر این رام چندر راؤ نے اتوار کے روز کہا کہ پارٹی کارکنان انتخابی فہرستوں کے خصوصی نظرثانی (SIR) کے دوران اہل رائے دہندوں کی مدد کرنے کے لئے پورے تلنگانہ میں کام کر رہے ہیں اور انہیں ووٹر لسٹوں میں نااہل ناموں کو شامل کرنے کی کوششوں کے خلاف چوکس رہنے کی تاکید کی۔انہوں نے کہا، "جیسے ہی SIR عمل کا دوسرا مرحلہ تلنگانہ میں شروع ہو رہا ہے، مجھے حیدرآباد میں بی جے پی کے اپنے محنتی کارکنان کے لیے SIR ورکشاپ سے خطاب کرنے کا موقع ملا"۔
بی آر ایس، کانگریس اور مجلس پر الزام
انہوں نے کہا، " چوکنا رہنے کی فوری ضرورت ہے، کیونکہ بی آر ایس، کانگریس اور اے آئی ایم آئی ایم، اپنے ووٹ بینک کے تحفظ کے لیے، ایس آئی آر کے عمل میں غیر قانونی افراد کے لیے بیک ڈور داخلے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔"انہوں نے فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹس کے اجراء پر بھی تشویش کا اظہار کیا، اور الزام لگایا کہ اس عمل کو لوگوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جنہیں انہوں نے "غیر قانونی عناصر" قرار دیا۔راؤ نے کہا، "خاندانی رجسٹر سرٹیفکیٹس کا اجراء سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے اور غیر قانونی عناصر کو قانونی حیثیت دینے کی واضح کوشش ہے۔"
باریک بینی سے جانچ کرنے پر زور
انہوں نے کہا، "میں نے اپنے کارکنان پر زور دیا کہ وہ اپنی کوششوں کو مزید تیز کریں اور ہر اسمبلی حلقہ میں ہر اہل ووٹر کے اندراج کو یقینی بنائیں، جبکہ کسی بھی مشکوک یا نا اہل اندراج کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کریں"۔رامچندرراؤ کا یہ تبصرہ تلنگانہ میں ایس آئی آر مشق پر جاری سیاسی بحث کے درمیان آیا ہے، جس میں سیاسی پارٹیاں ووٹر لسٹوں کی نظر ثانی اور ووٹر کے اندراجات کی تصدیق پر مختلف خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔