دنیا بھر کے کئی ممالک میں آج عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔ تنازعات کے بڑھتے ہوئے سائے کے درمیان، سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں لوگوں نے عید کی نماز ادا کی۔ نماز عید سے قبل مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ ان شہروں کے ارد گرد فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ۔ مسجد الحرام میں لاکھوں نمازی عید کی نماز ادا کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ نماز کے بعد انہوں نے پورے خطے میں امن و سکون کی دعائیں بھی کیں۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان، غزہ، شام، مصر اور اردن سمیت متعدد دیگر ممالک میں بھی بڑے اجتماعات نے نماز عید ادا کی۔ تاہم، ان ممالک میں سیکورٹی کے انتظامات معمول سے زیادہ سخت تھے۔ کئی مقامات پر مساجد کے باہر اضافی سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا۔
اسی دوران ملک ہندوستان میں بھی کیرلہ کے ترواننت پورم میں عید الفطر کی نماز ادا کی گئی ۔ شہر کے ایک اہم مقام چندر شیکھرن نائر اسٹیڈیم میں مسلمانوں نے ہزاروں کی تعداد میں پر امن طریقہ سے عید کی نماز ادا کی۔ خیال رہے کہ ملک ہندوستان کے کسی بھی حصے میں جمعرات کو عید کا چاند نظر نہیں آیا۔ سوائے کیرلہ کے ،اس وجہ سے عیدالفطر کا تہوار ہفتہ کو پورے ملک میں منایا جائے گا-
بتاتے چلیں کہ کیرلہ ایک ساحلی علاقہ میں واقع ہے اور کل وہاں شوال کا چاند دیکھا گیا ۔ چاند دیکھے جانے کے بعد جمعرات کی شام کو ریاست کے کچھ حصوں میں اعلانات کیے گئے کہ شوال کا مہینہ جمعہ سے شروع ہوگا اور عید کی نماز 20 مارچ کو ادا کی جائے گی۔جسکے بعد آج لوگوں نے وہاں نماز ادا کی۔
عید الفطر کا تہوار کیوں منایا جاتا ہے؟
عید الفطر کا ترجمہ 'روزہ کھولنے کی خوشی'ہے۔ یہ ایک اسلامی تہوار ہے جو رمضان کے مقدس مہینے کے اختتام پر منایا جاتا ہے۔ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں مسلمان صبح سے شام تک یک ماہ روزہ رکھتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جو عبادت، خیرات اور نیک اعمال کے لیے وقف ہے۔
عید کے دن وقت زوال سے قبل اہل مسلمان عیدکی نماز ادا کرتے ہیں ،امن و سلامتی کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کو گلے لگا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں،اور عید کی مبارک باد دیتے ہیں، اس طرح باہمی اخوت اور محبت کے جذبے کو فروغ ملتا ہے۔