الیکشن کمیشن نے 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ایس آئی آرکے عمل کی آخری تاریخ میں ایک ہفتے کی توسیع کردی ہے۔ ان 12 ریاستوں میں ایس آئی آر کو اب 11 دسمبر تک اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔ ڈرافٹ رول 16 دسمبر کو جاری کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایس آئی آر کا عمل فی الحال انڈمان اور نکوبار جزائر، چھتیس گڑھ، گوا، گجرات، کیرالہ، لکشدیپ، مدھیہ پردیش، پڈوچیری، راجستھان، تمل ناڈو، اتر پردیش، اور مغربی بنگال میں جاری ہے۔
نیا ٹائم ٹیبل کیا ہے؟
الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے پورے عمل میں ایک ہفتے کی توسیع کر دی ہے۔ گنتی کی مدت، یعنی گھر گھر جا کر تصدیق، اب 11 دسمبر تک مکمل ہو جائے گی۔ پچھلی آخری تاریخ 4 دسمبر تھی۔ ڈرافٹ رول 16 دسمبر کو جاری کیا جائے گا۔ اس کے بعد 16 دسمبر سے 15 جنوری 2026 تک دعوے اور اعتراضات دائر کیے جاسکتے ہیں۔ نوٹس کا دورانیہ بھی 16 دسمبر سے 7 فروری 2026 تک چلے گا۔ اس مدت میں نوٹس کا اجرا، ان کی سماعت اور تصدیق شامل ہوگی۔
دباؤ کے درمیان BLO کو ریلیف ملے گا:
کمیشن کی توسیع ملک بھر سے ایس آئی آر کے عمل میں ملوث بی ایل اوز کی خودکشی، دل کا دورہ پڑنے، اور کام کے بہت زیادہ دباؤ کا سامنا کرنے کی رپورٹوں کے درمیان سامنے آئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں اب تک 10 سے زیادہ بی ایل او کی موت ہو چکی ہے۔ آج ہی اتر پردیش کے مراد آباد میں ایک بی ایل او نے خودکشی کر لی۔ اپنے خودکشی نوٹ میں اس نے وجہ کام کے دباؤ کو بتایا۔
SIR کا مقصد کیا ہے؟
ایس آئی آر کا مقصد جعلی ووٹرز کی شناخت اور ووٹر لسٹ سے نکالنا ہے۔ بہت سے لوگوں کے نام ووٹر لسٹ میں متعدد بار ظاہر ہوتے ہیں۔ SIR انہیں بھی کلیئر کر دے گا۔ SIR ووٹر لسٹوں کو صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ عمل حال ہی میں بہار میں اسمبلی انتخابات سے پہلے کیا گیا تھا، جہاں ووٹر لسٹ سے تقریباً 47 لاکھ ووٹروں کا نام حذف کر دیا گیا۔
تاہم ایس ائی آر کو لیکر اپوزیشن حکومت اور الیکش کمیشن پر حملہ آور ہے،اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کے بہانہ ووٹروں کے ناموں کو حذف کیا جا رہا ہے۔
ایس آئی آر کے نام پر ہو رہے دھوکہ دہی سے رہیں ہوشیار:
جہاں ایک طرف ملک بھر میں ایس آئی آر کا عمل جاری ہے،وہیں دوسری طرف جعل ساز بھی حرکت میں ہے،مختلف علاقوں سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ بی ایل او زکے نام پر لوگوں کے پاس کال موصول ہو رہےہیں،جہاں ان سے او ٹی مانگا جارہا ہے۔
لیکن الیکشن کمیشن نے یہ واضح طور پر کہا ہے کہ اگر کوئی شخص خود آن لائن SIR اپ ڈیٹ کرتا ہے تو OTP صرف اس کے اپنے نمبر پر آتا ہے اور اسے ویب سائٹ پر ڈالنا ہوتا ہے۔ کسی بھی ملازم، افسر یا بی ایل او کو آپ کا OTP جاننے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر کوئی OTP مانگے تو فوراً سمجھ لیں کہ وہ جعل ساز ہے۔
سائبر پولیس نے وارننگ جاری کر دی:
سائبر پولیس کا کہنا ہے کہ ٹھگ SIR کے نام پر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں، اس لیے انتہائی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی نامعلوم نمبر سے آنے والی کال، میسج یا لنک پر بالکل بھروسہ نہ کریں۔ خاص طور پر OTP کسی بھی صورت میں شیئر نہ کریں، کیونکہ اس سے چند منٹوں میں بینک اکاؤنٹ خالی ہو سکتا ہے۔
کوئی شک ہو تو براہِ راست 1950 پر رابطہ کریں:
اگر SIR کے عمل کے بارے میں آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے تو الیکشن کمیشن کے ٹول فری نمبر 1950 پر براہِ راست رابطہ کریں۔ یہاں آپ کو تمام قواعد، دستاویزات اور عمل سے متعلق درست اور معتبر معلومات ملیں گی۔ الیکشن کمیشن نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ہوشیار رہیں، بیدار رہیں اور ڈیجیٹل ٹھگوں سے خود کو محفوظ رکھیں۔