Sunday, August 23, 2026 | 08 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • مرگی کیا ہے؟ علامات، وجوہات اور علاج پر ماہر نیورولوجسٹ کی گفتگو

مرگی کیا ہے؟ علامات، وجوہات اور علاج پر ماہر نیورولوجسٹ کی گفتگو

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 22, 2026 IST

مرگی کیا ہے؟ علامات، وجوہات اور علاج پر ماہر نیورولوجسٹ کی گفتگو
 
منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Epilepsy: What It Is? Symptoms, Causes & Treatment" کے موضوع پر ایک اہم اور معلوماتی نشست پیش کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر مادھوری کھلار ی، کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ، اپولو ہاسپٹلس، جوبلی ہلز، حیدرآباد نے مرگی کی بیماری، اس کی مختلف علامات، ممکنہ وجوہات، تشخیص اور جدید علاج کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی۔
 
ڈاکٹر مادھوری نے بتایا کہ مرگی دماغ سے متعلق ایک اعصابی بیماری ہے جس میں دماغ کے اندر برقی سرگرمی کچھ عرصے کے لیے غیر معمولی ہو جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں مریض کو دورہ پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرگی کو محض دورے یا بے ہوشی سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ اس کی علامات ہر مریض میں مختلف انداز سے ظاہر ہو سکتی ہیں۔
 
ان کے مطابق بعض مریضوں کو دورے کے دوران پورے جسم میں جھٹکے آتے ہیں اور وہ کچھ دیر کے لیے بے ہوش ہو سکتے ہیں، جبکہ کچھ افراد میں چند لمحوں کے لیے نظریں ایک جگہ ٹھہر جاتی ہیں، وہ اردگرد کی باتوں کا جواب نہیں دیتے یا انہیں کچھ دیر کے لیے اپنے ماحول کا احساس نہیں رہتا۔ بعض صورتوں میں ہاتھ، بازو یا چہرے کے کسی حصے میں غیر ارادی حرکت بھی دورے کی علامت ہو سکتی ہے۔
 
مرگی کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مادھوری نے کہا کہ سر پر شدید چوٹ، دماغی انفیکشن، فالج، پیدائشی دماغی مسائل، بعض جینیاتی عوامل اور دماغ میں رسولی اس بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔ تاہم کئی مریضوں میں تمام طبی جانچ کے باوجود مرگی کی واضح وجہ سامنے نہیں آتی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایک مرتبہ دورہ پڑنے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ مریض کو مرگی ہے۔ درست تشخیص کے لیے مکمل طبی تاریخ اور ماہر نیورولوجسٹ کا معائنہ ضروری ہے۔
 
تشخیص کے لیے مریض کی علامات اور دورے کی نوعیت کو سمجھنا بہت اہم ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق ضرورت کے مطابق EEG اور MRI Brain سمیت دیگر ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔ بعض اوقات گھر کے افراد کی جانب سے دورے کے وقت مریض کی کیفیت کی درست معلومات بھی ڈاکٹر کے لیے تشخیص میں کافی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
 
علاج کے حوالے سے ڈاکٹر مادھوری نے بتایا کہ مرگی کے بیشتر مریضوں میں مناسب اینٹی سیژر ادویات کے ذریعے دوروں کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ تاہم دوا کا انتخاب ہر مریض کی عمر، دورے کی قسم اور مجموعی صحت کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مریضوں کو خاص طور پر ہدایت دی کہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا بند نہ کریں، چاہے کافی عرصے سے دورہ نہ پڑا ہو۔
 
دورے کے دوران ابتدائی مدد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مریض کو زبردستی پکڑنے کے بجائے محفوظ جگہ پر لٹایا جائے، اس کے سر کے نیچے نرم چیز رکھی جائے اور آس پاس موجود خطرناک اشیا ہٹا دی جائیں۔ مریض کے منہ میں چمچ، انگلی، پانی یا کوئی دوسری چیز ڈالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اگر دورہ پانچ منٹ سے زیادہ جاری رہے یا بار بار دورے پڑیں تو فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
 
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر مادھوری نے کہا کہ مرگی کوئی ایسی بیماری نہیں جس کی وجہ سے مریض کو معاشرے سے الگ کر دیا جائے۔ مناسب علاج اور باقاعدہ طبی نگرانی کے ساتھ بہت سے مریض تعلیم، ملازمت اور معمول کی زندگی جاری رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مرگی کے مریضوں کے ساتھ ہمدردی کا رویہ اختیار کریں اور بیماری سے متعلق غلط تصورات کے بجائے مستند طبی معلومات پر اعتماد کریں۔
 
 قارئین  ڈاکٹر مادھوری کھلار ی، کی مکمل گفتگو یہاں👇دیکھ سکتےہیں۔ اور ہیلتھ سے جڑے کسی بھی  موضوع پر، اہم ویڈیوزمنصف ٹی وی ہیلتھ پر بھی دیکھ سکتےہیں۔