منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام “ہیلتھ اور ہم” میںDr. Kadiyala Ramya Theja نے ویجائنل ڈلیوری (Normal Delivery) کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے اس کے فوائد، ضروری شرائط، ممکنہ خطرات اور احتیاطی تدابیر پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر رمیا تیجا کے مطابق ویجائنل ڈلیوری ( نارمل پیدائش )بچے کی پیدائش کا ایک قدرتی عمل ہے جس میں ماں بغیر بڑے آپریشن کے بچے کو جنم دیتی ہے۔ یہ عمل اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب حاملہ خاتون اور بچہ دونوں صحت مند ہوں، بچے کی پوزیشن درست ہو اور حمل میں کوئی پیچیدگی نہ ہو۔ عموماً حمل کے 37 سے 40 ہفتوں کے درمیان دردِ زہ شروع ہوتا ہے جس کے بعد بچہ قدرتی طور پر پیدا ہوتا ہے۔
قارئین اس موضوع پر آپ ڈاکٹر کی مکمل بات چیت یہاں دیکھ سکتےہیں
انہوں نے بتایا کہ نارمل ڈلیوری کے لیے ماں کی جسمانی صحت، مناسب غذائیت، باقاعدہ طبی معائنہ اور ذہنی سکون بے حد ضروری ہیں۔ دورانِ حمل شوگر، بلڈ پریشر یا دیگر پیچیدگیاں ہونے کی صورت میں ڈاکٹروں کی نگرانی ضروری ہو جاتی ہے۔
ویجائنل ڈلیوری کے کئی فوائد ہیں۔ اس میں ماں کی صحت جلد بحال ہوتی ہے، اسپتال میں کم وقت گزارنا پڑتا ہے اور انفیکشن یا سرجری کے خطرات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچے کو بھی قدرتی طریقے سے دنیا میں آنے کے باعث سانس کی بعض پیچیدگیوں کا خطرہ کم رہتا ہے۔
تاہم بعض صورتوں میں ویجائنل ڈلیوری خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے، جیسے بچے کی غلط پوزیشن، ماں میں شدید کمزوری، زیادہ خون بہنا یا بچے کی دل کی دھڑکن متاثر ہونا۔ ایسی صورت میں فوری طبی امداد یا سیزیرین آپریشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ڈاکٹر رمیا تیجا نے حاملہ خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ حمل کے دوران متوازن غذا استعمال کریں، باقاعدہ واک کریں، ذہنی دباؤ سے دور رہیں اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق تمام ٹیسٹ کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ درست رہنمائی اور مناسب دیکھ بھال کے ذریعے زیادہ تر خواتین محفوظ نارمل ڈلیوری کر سکتی ہیں۔
پروگرام میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ویجائنل ڈلیوری ایک فطری عمل ہے اور بلا ضرورت سیزیرین سے گریز کرنا چاہیے، تاہم ماں اور بچے کی سلامتی ہر صورت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔