-
اداکار وجے کے ہارنے کی افواہوں پر مداح کا اقدام خودکشی
-
یہ واقعہ تمل ناڈو کے کرشنا گری میں پیش آیا
-
نوجوان نے ووٹوں کی گنتی سے قبل اپنا گلا کاٹ لیا
-
مقامی لوگوں نےزخمی نوجوان کو ہسپتال منتقل کیا
تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی سے قبل ایک انتہائی پریشان کن واقعہ پیش آیا۔ ٹی وی کے پارٹی کے رہنما اور اداکار وجے کو شکست ملنے کی افواہیں سن کر ایک مداح (پرستار )نے خودکشی کی کوشش کی۔ کرشنا گری میں پیش آئے اس واقعہ نے مقامی طور پر ہلچل مچا دی ہے۔
شکست کی افواہ پر مداح کا اقدام خودکشی
پولیس کے مطابق کرشنا گری کا رہنے والا 28سالہ مہندرن TVK پارٹی اور وجے کا مداح ہے۔ ووٹوں کی گنتی شروع ہونے سے پہلے کچھ افواہیں پھیل گئیں کہ وجے الیکشن ہار جائیں گے۔ اس خبر کو برداشت نہ کرسکے مہندرن نے اپنے گھر کے قریب گلا کاٹ کر انتہائی اقدام کیا۔مقامی لوگوں نے فوراً اسے دیکھ کر فوری طور پر کرشنا گری گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال لے جایا گیا۔ کرشناگری ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے ایک افسر نے انکشاف کیا کہ وہ فی الحال انتہائی نگہداشت میں زیر علاج ہے۔ واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔
افواہوں سے ہوشیار رہیں
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ خبروں کے اس دور میں افواہیں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں، جو بعض اوقات خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی بھی خبر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنا انتہائی ضروری ہے۔
رجحانات میں ٹی وی کےپارٹی کی زبردست کارکردگی
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس افواہ نے نوجوان کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا، وہ حقیقت کے برعکس نکلی۔ ابتدائی رجحانات کے مطابق وجے کی پارٹی تملگا ویٹری کژگم (TVK) تمل ناڈو کی 234 اسمبلی نشستوں میں سے 100 سے زائد پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔ دوسری طرف آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کژگم اتحاد تقریباً 64 کے قریب نشستوں پر آگے ہے، جبکہ دراوڑ منیترا کژگم اتحاد تیسرے نمبر پر نظر آ رہا ہے۔ اگر یہی رجحانات حتمی نتائج میں تبدیل ہوتے ہیں تو ریاست میں بڑی سیاسی تبدیلی متوقع ہے اور وجے پہلی بار اقتدار میں آ سکتے ہیں۔
مداحوں میں جشن کا ماحول ۔وجے کی سیکوریٹی میں اضافہ
نتائج کے رجحانات میں تھلاپتی وجے کی پارٹی کو ملنے والی بڑی برتری کے بعد ان کے گھر کے باہر مداحوں اور کارکنوں کا بھاری ہجوم جمع ہونا شروع ہو گیا ہے۔ تاہم، سیکورٹی بڑھانے کی ایک اہم وجہ ماضی میں ملنے والی دھمکیاں بھی ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں چنئی پولیس کو ایک نامعلوم کال موصول ہوئی تھی جس میں وجے کی نی لانگرئی (Neelankarai) میں واقع رہائش گاہ کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ موجودہ سیاسی صورتحال اور کرور (Karur) میں پیش آنے والے حالیہ بھگدڑ کے واقعے کے پیشِ نظر پولیس کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی۔