کانپور میں دہلی سے وارانسی جا رہی ایک سلیپر بس میں جمعہ کو آگ لگ گئی، لیکن دو پولیس اہلکاروں کی فوری ہوشیاری سے بڑا حادثہ ٹل گیا۔ پولیس حکام نے اطلاع دی کہ دو کانسٹیبلوں کے چلائے گئے ریسکیو آپریشن میں بس میں سوار تمام 38 مسافروں کو باہر نکال لیا گیا۔ دونوں کانسٹیبل بغیر کسی حفاظتی سامان کے جلتی بس میں داخل ہو گئے تھے۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ایسٹ) ستیجیت گپتا نے بتایا کہ واقعہ صبح اس وقت پیش آیا جب بس کی چھت پر رکھے سامان سے دھواں نکلنے لگا۔ چند ہی منٹوں میں آگ نے تیزی سے پھیلاوٹ اختیار کر لی اور پوری بس اس کی لپیٹ میں آ گئی، اندر افراتفری مچ گئی اور مسافر مدد کے لیے چیخنے لگے۔ گپتا نے بتایا کہ کئی افراد گھبراہٹ میں کھڑکیوں سے باہر چھلانگ لگانے میں کامیاب ہو گئے جبکہ کئی خواتین، بچے اور بزرگ مسافر اندر پھنس گئے۔
بچوں کو دھوئیں سے بھرے کیبن سے باہر نکالا:
ڈپٹی کمشنر نے کہا، پاس کی کراسنگ پر ٹریفک ڈیوٹی پر موجود کانسٹیبل ساحل خان اور پشپیندر نے بس میں لگی آگ دیکھی تو فوراً اس کی طرف دوڑے۔انہوں نے بتایا کہ شدید گرمی اور گھنے دھوئیں کے باوجود دونوں بس میں گھس گئے اور مسافروں کو باہر نکالنا شروع کر دیا۔
کانسٹیبل ساحل خان نے صحافیوں کو بتایا، آگ کی لپٹیں پہلے ہی چھت تک پہنچ چکی تھیں۔ ہم مسافروں سے کہہ رہے تھے کہ اپنا سامان چھوڑ دیں۔ اگر ہم دو منٹ بھی دیر سے پہنچتے تو کئی جانیں جا سکتی تھیں۔
ساحل اور پشپیندر نے بچوں کو دھوئیں سے بھرے کیبن سے باہر نکالا۔ انہوں نے ایک حاملہ خاتون اور کئی بزرگ مسافروں کو گود میں اٹھا کر باہر پہنچایا۔ اس کے بعد بھی جب اطلاع ملی کہ ایک بچہ ابھی بس میں پھنسا ہوا ہے تو وہ دوبارہ جلتی بس میں داخل ہو گئے۔
مسافروں کے زیورات، نقدی اور ذاتی سامان جل کر راکھ:
پشپیندر نے کہا، دھوئیں میں سانس لینا مشکل ہو رہا تھا، پھر بھی ہم نے ایک ایک سیٹ چیک کی۔ بعد میں فائر بریگیڈ نے آگ پر قابو پا لیا، لیکن تب تک بس مکمل طور پر جل چکی تھی۔ ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسافروں کے زیورات، نقدی اور ذاتی سامان سب جل کر راکھ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کی وجہ ابھی واضح نہیں ہے، البتہ کئی مسافروں نے چھت پر سامان رکھنے والی جگہ میں شارٹ سرکٹ ہونے کا الزام لگایا ہے۔
اس واقعے کی وجہ سے راما دیوی سے نوبستہ تک تقریباً 10 کلومیٹر طویل جام لگ گیا جس سے سینکڑوں گاڑیاں ایک گھنٹے سے زیادہ تک پھنسی رہیں۔ پولیس نے بتایا کہ آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔