Tuesday, June 02, 2026 | 15 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • سپریم کورٹ کے پانچ نئے ججوں کی حلف برداری۔ ججوں کی تعداد بڑھ کرہوئی 37

سپریم کورٹ کے پانچ نئے ججوں کی حلف برداری۔ ججوں کی تعداد بڑھ کرہوئی 37

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jun 02, 2026 IST

سپریم کورٹ کے پانچ نئے ججوں کی حلف برداری۔ ججوں کی تعداد بڑھ کرہوئی 37
چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے منگل کو سپریم کورٹ کے پانچ نئے ججوں کو عہدے کا حلف دلایا، جس سے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 37 ہوگئی، جو اب تک کی سب سے زیادہ ہے۔سی جے آئی نے جسٹس شیل ناگو، شری چندر شیکھر، سنجیو سچدیوا، ارون پلی اور وی موہنا کو سپریم کورٹ کے ججوں کے طور پر عہدے کا حلف دلایا۔ حلف برداری کی تقریب سپریم کورٹ کے احاطے میں منعقد ہوئی۔
 
مرکز نے سپریم کورٹ کالجیم کی سفارش پر ان کی تقرریوں کو منظوری دی تھی۔  22مئی اور27 مئی کو منعقدہ اپنی میٹنگوں میں کی گئی کالجیم کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے مرکز نے پیر کو ہائی کورٹ کے چار چیف جسٹس اور سینئر ایڈوکیٹ موہنا کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کی منظوری دی۔
 
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹ میں، مرکزی وزیر قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے اعلان کیا تھا کہ صدر نے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سے مشاورت کے بعد جسٹس شیل ناگو، شری چندر شیکھر، سنجیو سچدیوا اور ارون پلی کے ساتھ سینئر ایڈوکیٹ وی موہنا کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا ہے۔
 
"سپریم کورٹ کالجیم نے، 22 اور 27 مئی، 2026 کو منعقدہ اپنی میٹنگوں میں، مندرجہ ذیل افراد کو سپریم کورٹ میں جج کے طور پر ترقی دینے کی سفارش کی ہے،" کالجیم نے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردہ ایک بیان میں کہا تھا۔
 
جسٹس ناگو کو مئی 2011 میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے جج کے طور پر مقرر کیا گیا تھا اور جولائی 2024 میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا تھا۔
 
جسٹس چندر شیکھر کو جنوری 2013 میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے جج کے طور پر ترقی دی گئی تھی اور انہوں نے بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر عہدہ سنبھالا تھا۔ اپریل 2013 اور مارچ 2015 میں مستقل جج بنے۔ جولائی 2025 میں وہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔
 
جسٹس سچدیوا اپریل 2013 میں دہلی ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج کے طور پر مقرر ہوئے اور مارچ 2015 میں مستقل جج بن گئے۔ وہ جولائی 2025 میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔
 
جسٹس پالی کو دسمبر 2013 میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے جج کے طور پر ترقی دی گئی تھی اور اپریل 2025 میں انہیں جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔
 
سینئر وکیل موہنا سپریم کورٹ  میں  پریکٹس کر رہے ہیں اور سپریم کورٹ  میں  کئی آئینی، سول اور سروس قانون کے معاملات کو نمٹا چکے ہیں۔
 
حلف برداری  کی تقریب صدرجمہوریہ دروپدی مرمو کے سپریم کورٹ(ججوں کی تعداد) ترمیمی آرڈیننس، 2026 کو جاری کرنے کے چند ہفتوں بعد ہوئی ہے، جس سے سپریم کورٹ میں ججوں کی منظور شدہ تعداد کو چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) کو چھوڑ کر 33 سے بڑھا کر 37 کردیا گیا۔