• News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • امریکی جدت کے ذریعے نئے راستوں کی تشکیل

امریکی جدت کے ذریعے نئے راستوں کی تشکیل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 16, 2026 IST

امریکی جدت کے ذریعے نئے راستوں کی تشکیل
 
انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام کے تحت ہندوستانی  ماہرین نے جانا کہ امریکہ میں جدید بیٹری ٹیکنالوجی کس طرح معیشت کی ترقی کو تقویت دیتی ہے۔
 

چاروی اروڑا


جدید بیٹری ٹیکنالوجیز اس بات میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں کہ ممالک کس طرح معاشی ترقی کو آگے بڑھاتے ہیں، سپلائی چینز کو محفوظ بناتے ہیں اور اعلیٰ قدر کی صنعتوں میں مسابقت برقرار رکھتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجیز اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور بیک اپ سسٹمز سے لے کر گاڑیوں، پاور گرڈز اور جدید مینوفیکچرنگ سسٹمز تک ہر چیز کو توانائی فراہم کرتی ہیں۔
 
امریکہ نے اس شعبے کو ترجیح دی ہے اور حکومت، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے اس میں تحقیق، مینوفیکچرنگ اور ترقی کے معیارات کو فروغ دیا ہے۔
 
جولائی ۲۰۲۵ء میں امریکی محکمہ خارجہ کے انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام (آئی وی ایل پی )کے تحت ’’ایڈوانسڈ بیٹری کیمسٹریز‘‘ کے عنوان سے ہندوستانی ماہرین کے ایک گروپ نے امریکہ کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد یہ جاننا تھا کہ امریکی اختراع، تحقیقی ادارے اور صنعت کے ساتھ شراکت داریاں اگلی نسل کی بیٹری ٹیکنالوجیوں میں پیش رفت کو کس طرح آگے بڑھاتی ہیں۔ اس گروپ میں کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کے سینئر سائنس دان وشال دھاولے، کونسل آن انرجی، انوائرنمنٹ اینڈ واٹر کی محقق شروتی گوبا اور مائنس سی او ٹو کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سدھارتھ دیشمکھ شامل تھے۔
 
کئی ہفتوں پر محیط اس دورے کے دوران، گروپ نے ان محققین، پالیسی سازوں اور صنعتی رہنماؤں سے ملاقات کی جو ایسی ٹیکنالوجیوں پر کام کر رہے ہیں جو امریکی معیشت کو مضبوط بناتی ہیں، عالمی شراکت داریوں کو وسعت دیتی ہیں، اور اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک معاشی مواقع پیدا کرتی ہیں۔
 
یہ پروگرام متعدد اہداف پر مرکوز تھا۔ اس کا مقصد توانائی کے ذخیرے میں اختراع کو فروغ دینے والی وفاقی، ریاستی اور مقامی پالیسیوں کا واضح جائزہ فراہم کرنا تھا۔ اس میں اگلی نسل کی بیٹری کیمیسٹریز کی معاونت کرنے والی حکمتِ عملیوں کو بھی اجاگر کیا گیا، اور امریکہ اور ہندوستان کے غیر محفوظ سپلائی چین پر انحصار کو کم کرنے کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، پروگرام نے شرکا کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ قومی تجربہ گاہیں، جامعات، نجی کمپنیاں اور سرکاری ادارے جدید مواد کی تحقیق میں کس طرح کردار ادا کرتے ہیں۔ ان سائنسی پیش رفتوں کو قابلِ توسیع ٹیکنالوجیوں میں تبدیل کر کے امریکہ نہ صرف عالمی اختراع کو آگے بڑھاتا ہے بلکہ اندرون ملک صنعتوں کو مضبوط کرتا ہے، اعلیٰ قدر کی ملازمتیں پیدا کرتا ہے اور معاشی ترقی کو تقویت دیتا ہے۔
 
معاشی ترقی کے لیے اختراع کو وسعت دینا:
 
دھاولے کے لیے امریکہ کے اختراعی نظام کی مضبوطی ایک نمایاں پہلو تھی۔ وہ کہتے ہیں ’’سب سے زیادہ نمایاں یہ بات تھی کہ سائنسی امنگوں کو کس طرح ایک منظم اور مضبوط اختراعی نظام کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔‘‘
 
گوبا امریکی اختراعی منظرنامے کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتی ہیں۔ وہ وضاحت کرتی ہیں ’’امریکہ نے ایک منفرد اور باہمی طور پر فائدہ مند اختراعی ماحولیاتی نظام تشکیل دیا ہے، جہاں امریکی محکمۂ توانائی ، ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی–انرجی ، امریکی اکنامک ڈیولپمنٹ ایڈمنسٹریشن ، اور امریکی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن  جیسے سرکاری ادارے جوکھم والا زر (ریسک کیپٹل) اور سمت فراہم کرتے ہیں، جبکہ جامعات اور صنعتیں مل کر حل تیار کرتی ہیں۔‘‘
 
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’امریکی اختراعی نظام اس بات کے لیے منفرد ہے کہ اس میں ٹیکنالوجی کے عملی اطلاق، واضح اہداف، تکنیکی و معاشی معیارات اور اندرونِ ملک مینوفیکچرنگ کے تقاضوں پر زور دیا جاتا ہے، تاکہ خیالات محض تعلیمی سطح تک محدود نہ رہیں بلکہ فیکٹریوں تک پہنچ سکیں۔‘‘ گوبا کے مطابق، یہی طریقہ امریکہ کو ’’ایسا مثالی مقام بناتا ہے جہاں جدید ترین سائنس کو تیزی سے حقیقی دنیا کے نتائج میں تبدیل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘
 
اگلی نسل کی ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانا:
 
تبادلہ پروگرام کا ایک بڑا حصہ اس بات کو واضح کرنے کے لیے وقف تھا کہ امریکہ بیٹری کے مواد اور کیمیسٹری میں سائنسی پیش رفت کو کس طرح آگے بڑھاتا ہے۔ دھاولے کے لیے سرِبا سلوشنز  اور نارتھ کیرولائنا بیٹری کمپلیکسٹی، آٹونومس وہیکل اینڈ الیکٹری فکیشن ریسرچ سینٹر (بیٹ کیو)  کے ساتھ ان کی ملاقات خاص طور پر مفید رہی، کیونکہ ’’اس سے یہ دکھایا گیا کہ بغیر ڈرائیور گاڑیاں اور بیٹری مینجمنٹ سسٹمز ایک ہی ماحولیاتی نظام میں کس طرح ضم ہوتے ہیں، جہاں مختلف ادارے ابھرتی ہوئی کیمیسٹری اور سسٹم ڈیزائنز کی معاونت کرتے ہیں۔‘‘
 
بیٹ کیو محققین، طلبہ اور کارپوریٹ شراکت داروں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے تاکہ جدید بیٹری مواد، ماڈلنگ، مینوفیکچرنگ کے طریقۂ کار اور انضمام کی تکنیکیں تیار کی جا سکیں جو خودکار نظاموں اور اسمارٹ انفراسٹرکچر کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
 
دھاولے لارینس برکلے نیشنل لیباریٹری میں تیار کیے گئے  ڈی آر ایکس (ڈس آرڈر ڈراک سالٹ— ایسے بیٹری مواد جن میں ایٹمی ساخت روایتی ترتیب کے بجائے بے قاعدہ ہوتی ہے) کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ ’’ مستقبل کی لیتھیم آئن بیٹریوں کے لیے صلاحیت اور توانائی کی کثافت میں بہتری لا سکتے ہیں۔ ‘‘
 
تعاون کے فروغ کی سمت:
 
گوبا ایک وسیع تناظر پیش کرتی ہیں کہ امریکہ–ہندوستان تعاون بیٹری ٹیکنالوجیز کے مستقبل کو کس طرح تشکیل دے سکتا ہے اور عالمی منڈی میں اہم تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’’اس وقت عالمی بیٹری منڈیوں میں زیادہ تر لیتھیئم آئن کی حکمرانی ہے۔ سرمایہ کار اور صارفین محفوظ، سستی کیمیسٹریز اور بہتر سیل-ٹو-پیک ڈیزائنز کی تلاش میں ہیں جو ابھرتے ہوئے استعمالات جیسے طویل مدتی توانائی کے ذخیرے کے لیے موزوں ہوں—جہاں لیتھیئم آئن قابلِ عمل نہیں۔‘‘
 
ان کے مطابق، یہ تبدیلی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرتی ہے۔ سوڈیم آئن بیٹریاں ’’لیتھیئم آئن کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، کم لاگت والی اور کم معدنی وسائل پر منحصر ہوتی ہیں‘‘ اور یہ تعاون کے لیے ایک مضبوط شعبہ بن سکتی ہیں۔ وہ وضاحت کرتی ہیں ’’امریکہ کے پاس سوڈا ایش کے وافر ذخائر ہیں، جبکہ ہندوستان کے پاس سوڈیم نمکیات کے حصول کے لیے طویل ساحلی پٹی، ایک وسیع اندرونی منڈی اور بڑھتی ہوئی طلب موجود ہے—جو مشترکہ ترقی کو خاص طور پر امید افزا بناتی ہے۔‘‘ اس طرح کا تعاون منڈیوں کو وسعت دے سکتا ہے، سپلائی چینز کو مستحکم بنا سکتا ہے اور دونوں ممالک کے لیے مشترکہ معاشی فوائد پیدا کر سکتا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اختراع کس طرح سرحدوں سے آگے خوشحالی کو فروغ دیتی ہے۔
 
تحقیقاتی ادارے جدت کی قیادت کرتے ہوئے:
 
آئی وی ایل پی کے آخری مرحلے میں شرکا کو اس تحقیقی انفراسٹرکچر کا قریبی جائزہ لینے کا موقع ملا جو امریکی اختراع اور خوشحالی کو تقویت دیتا ہے۔ گوبا کے لیے یونیورسٹی آف میری لینڈ میں قائم سینٹر فار ایڈوانسڈ لائف سائیکل انجینئرنگ (سی اے ایل سی ای)  امریکی تحقیقی قیادت کی ایک نمایاں مثال تھا۔ وہ کہتی ہیں ’’سی اے ایل سی ای کا جانچ، ناکامی کے تجزیے اور سپلائی چین کی پیش گوئی کو یکجا کرنے والا طریقہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بیٹری ٹیکنالوجی میں حفاظت اور لچک کو ڈیزائن کے مرحلے سے ہی شامل کر لیا جاتا ہے۔‘‘ گوبا خاص طور پر اس بات سے متاثر ہوئیں کہ ’’سی اے ایل سی ای کے طریقۂ کار محکمۂ دفاع کی بیٹری حفاظتی معیارات سے ہم آہنگ ہیں، جو عوامی طور پر دستیاب ہیں اور عالمی سطح پر معیارات قائم کرتے ہیں۔‘‘
 
دھاولے لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری کے دورے کو بھی ایک نمایاں تجربہ قرار دیتے ہیں، جہاں گروپ نے دیکھا کہ یہ ادارہ ’’عالمی معیار کے آلات، باہمی تعاون پر مبنی ورک اسپیسز اور طویل مدتی اختراع کے لیے ایک واضح وژن‘‘ پیش کرتا ہے۔
 
دیشمکھ نے قومی تجربہ گاہوں کو بھی عالمی معیار کا پایا۔ وہ کہتے ہیں ’’میں نے مواد کی خصوصیات کے تجزیے)، ناکامی کے تجزیے، اور اگلی نسل کے کیتھوڈ/اینَوڈ ڈیزائن میں جدید ترین کام دیکھا—جس کا مقصد درآمد شدہ مواد پر انحصار کم کرنا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’یہ بات واضح تھی کہ قومی تجربہ گاہیں محض تحقیقی مراکز نہیں بلکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کے عالمی محرک ہیں۔‘‘
 

بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی