راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سابق ترجمان مرتیونجے تیواری نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کر لی۔ پارٹی میں شامل ہونے سے قبل وہ پٹنہ کے مہاویر مندر پہنچے، جہاں انہوں نے پوجا اور درشن کیے، جس کے بعد بی جے پی کے ریاستی دفتر جا کر پارٹی کی رکنیت حاصل کی۔ اس موقع پر منگل پانڈے اور دیگر بی جے پی لیڈران موجود تھے۔ مہاویر مندر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتیونجے تیواری نے کہا، میں ہر منگل یہاں درشن کے لیے آتا ہوں، روزانہ سندرکنڈ کا پاٹھ کرتا ہوں اور بھگوان رام کا بھکت مند ہوں۔
انہوں نے حال ہی میں راشٹریہ جنتا دل سے استعفیٰ دے دیا تھا۔وہ پہلے آر جے ڈی کے ترجمان تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں ان کی شکایات کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا تھا اور کئی بار توجہ دلانے کے باوجود ان کے تحفظات پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو بھی ان کی بات سننے کے لیے تیار نہیں تھے، جس کی وجہ سے وہ خود کو پارٹی میں نظرانداز اور بے عزت محسوس کر رہے تھے۔
بی جے پی میں شامل ہونا فخر کا لمحہ، مرتیونجے تیواری
بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد تیواری نے کہا کہ یہ ان کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ آج بی جے پی میں شامل ہونے سے پہلے وہ طویل عرصے تک راشٹریہ جنتا دل سے وابستہ تھے۔ انہوں نے اس موقع پر بی جے پی کی قومی اور ریاستی قیادت کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ پہلے بھی ایک سیاسی پارٹی کا حصہ رہ چکے ہیں اور سب سے اچھی طرح واقف ہیں۔
بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد آر جے ڈی پر تنقید
تیواری نے آر جے ڈی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کپاس نہ واضح قیادت ہے اور نہ ہی مثبت سمت، اسی لیے وہاں مزید رہنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہار اور ملک کی ترقی کے عزم کے ساتھ بی جے پی کے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن پر نوجوانوں اور طلباء کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مزید کہا کہ آر جے ڈی اب دلدل میں دھنس گئی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ بی جے پی کے رکن کی حیثیت سے جییں گے اور مریں گے۔