ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تازہ اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 87 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 91 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ دس دنوں میں یہ تیسرا اضافہ ہے، جس کے بعد عام شہریوں میں تشویش اور ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔
عوامی ردعمل
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر ڈال رہا ہے۔ ان کے مطابق ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے خوراک اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی، جس کا بوجھ خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑے گا۔
حکومت کا مؤقف
اس معاملے پر مغربی بنگال کے وزیر Dilip Ghosh نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی معاشی صورتحال کا اثر ہندوستان سمیت دنیا بھر پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق طویل عرصے تک حکومت نے سبسڈی کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی، لیکن اس سے تیل کمپنیوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہو گئی ہے اور عوام کو بھی اپنے اخراجات میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔
مجموعی صورتحال
مسلسل قیمتوں میں اضافے کے بعد ایندھن کا مسئلہ ایک بار پھر سیاسی اور عوامی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک طرف عوام مہنگائی کے دباؤ کی شکایت کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف حکومت عالمی معاشی حالات اور مالی توازن کو اس کا سبب قرار دے رہی ہے۔