الہ آباد ہائی کورٹ نے وارانسی کے مشہور گنگا میں افطار کرنے کے معاملے میں آٹھ مسلمان نوجوانوں کو ضمانت دے دی ہے۔ اس موقع پر عدالت نے اپنے حکم میں اہم تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ گنگا پورے ملک کے عقیدت کی علامت ہے اور ہر مذہب کے لوگ اس کا احترام کرتے ہیں۔
الزامات کے خلاف دائر کردہ معافی نامے اور مستقبل میں ایسی غلطی نہ دہرانے کے یقین کو دیکھتے ہوئے عدالت نے راحت دینے کا فیصلہ سنایا۔ رمضان کے دوران افطار کے بعد شروع ہونے والا یہ معاملہ اب پورے صوبے میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
عدالت کا فیصلہ:
اس کیس کی سماعت ہائی کورٹ کے جسٹس راجیو لوچن شکلا اور جسٹس جیتندر کمار سنہا کی الگ الگ بینچوں میں ہوئی۔ جمعہ (15 مئی) کو جن آٹھ نوجوانوں کو ضمانت ملی، ان میں محمد آزاد علی، محمد تحسین، نہال افریدی، محمد توسیف، محمد انس، محمد سمیر، محمد احمد رضا اور محمد فیضان شامل ہیں۔عدالت نے باقی ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے لیے 18 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
یہ معاملہ مارچ 2026 کے رمضان مبارک کا ہے۔ رمضان کے دوران وارانسی کے پنچ گنگا گھاٹ کے قریب کچھ مسلمان نوجوان ناؤ پر افطار کر رہے تھے۔ الزام ہے کہ افطاری کے دوران نوجوانوں نے وہاں گوشت کا استعمال کیااور اس کے ٹکڑے گنگا میں پھینک دیے۔واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ہندو تنظیموں اور دائیں بازو کے سیاسی جماعتوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔
تاہم، ویڈیو میں کہیں بھی ملزمان نوجوان گوشت کا استعمال کرتے نظر نہیں آ رہے اور نہ ہی کوئی باقیات گنگا میں پھینکتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے ضلعی صدر رجت جیسوال نے 16 مارچ کو کوتوالی تھانے میں مقدمہ درج کرایا۔ شکایت میں کہا گیا کہ اس واقعے سے ایک مذہبی برادری کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
پولیس نے اس معاملے میں کل 14 نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان پر بھارتیہ نیایہ سنہیتا (BNS) کی متعدد دفعات اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 67 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ تفتیش کے دوران یہ الزام بھی لگایا گیا کہ ناؤ چلانے والے کو ڈرا کر ناؤ گنگا کے بیچ لے جایا گیا تھا۔
اس سے پہلے وارانسی کی ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت اور سیشن عدالت نے تمام ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ:
ضمانت کے لیے ہائی کورٹ میں ملزمان کی طرف سے حلف نامہ دائر کیا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ ان کا مقصد کسی کی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔ ساتھ ہی بتایا گیا کہ کسی بھی ملزم کا کوئی مجرمانہ سابقہ نہیں ہے۔نوجوانوں نے اپنے کیے پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت سے معافی مانگی اور یقین دلایا کہ مستقبل میں ایسی غلطی نہیں ہوگی۔
دوسری طرف ریاستی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انوپ تیواری نے ضمانت کی مخالفت کی۔ انہوں نے مذہبی مقامات کی پاکیزگی سے متعلق کئی پرانے فیصلوں کا حوالہ دیا۔
تاہم عدالت نے واضح کیا کہ کسی کو بھی گنگا کو ناپاک کرنے کا حق نہیں ہے، مگر معافی نامے اور یقین دہانی کو دیکھتے ہوئے ملزمان کو ضمانت دی جا رہی ہے۔فی الحال دانش سیفی، نور اسلام، عامر کیفی، محفوظ عالم، محمد احمد اور محمد اول کی ضمانت کی درخواستیں ابھی باقی ہیں۔