اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جب اینٹی ٹیررازم اسکواڈ (ATS) نے اچانک چھاپہ مار کر دو مسلم نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ یہ کاروائی سوشل میڈیا پر مشتبہ سرگرمیوں اور ملک دشمن عناصر کے ساتھ مبینہ رابطوں کے شبہ میں کی گئی ہے۔ اے ٹی ایس کی ٹیم دونوں نوجوانوں کو مزید پوچھ گچھ کے لیے پریاگ راج لے کر روانہ ہو گئی ہے۔اگرچہ ابھی تک کسی اعلیٰ افسر نے اس کاروائی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے، لیکن پورے علاقے میں بحثوں کا بازار گرم ہے۔
پاکستان اور دہلی سے جڑے روابط کا شبہ:
سلام ٹی وی کی رپورٹس کے مطابق، سیکورٹی ایجنسیاں گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر ملک اور ریاست مخالف سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے تھیں۔ اس نگرانی کے دوران اعظم گڑھ کے ان دو نوجوانوں کے نام سامنے آئے۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ نوجوان پاکستان سے چلنے والے کچھ مشتبہ سوشل میڈیا ہینڈلز کے ساتھ رابطے میں تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی دہلی سے ملنے والے خفیہ ان پٹ (Input) کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
مختلف تھانہ علاقوں سے گرفتاری:
اے ٹی ایس نے دونوں نوجوانوں کو ضلع کے دو الگ الگ تھانہ علاقوں سے حراست میں لیا، جس کی وجہ سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا:جن نوجوان کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں ایک محمد احمد ہے ، جو نظام آباد تھانہ علاقے کے 'خداداد پور' گاؤں کا رہنے والا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اے ٹی ایس نے اسے اس وقت حراست میں لیا جب وہ اپنی بلڈنگ مٹیریل کی دکان پر بیٹھا ہوا تھا۔دوسرا اعظم سیفی ہے، جوسرائے میر تھانہ علاقے کے 'پٹھان ٹولہ' کا رہائشی ہے۔
سرکاری بیان کا انتظار:
اچانک ہونے والی اس کاروائی کے بعد پورے علاقے میں مختلف قسم کی افواہیں اور بحثیں جاری ہیں۔ فی الحال اے ٹی ایس یا مقامی انتظامیہ کی طرف سے کوئی باضابطہ پریس ریلیز یا بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ایجنسی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پریاگ راج میں تفصیلی پوچھ گچھ کے بعد ہی معاملے کی اصل صورتحال واضح ہو سکے گی۔