غزہ کی پٹی میں سنگین بیماریوں میں مبتلا مریضوں اور جنگ کے دوران زخمی ہونے والے افراد نے ایک بار پھر بیرونِ ملک طبی انخلاء کی بحالی اور اس عمل کو تیز کرنے کے لیے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین نے مقامی وزارتِ صحت اور عالمی ادارۂ صحت (WHO) سے پرزور اپیل کی ہے کہ غزہ سے باہر علاج کے لیے مریضوں کی منتقلی کے عمل کو فوری طور پر تیز کیا جائے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کو آٹھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس کے باوجود ہزاروں مریض اور شدید زخمی افراد اب بھی خصوصی علاج کے انتظار میں زندگی اور موت کی کشمکش سے گزر رہے ہیں۔
پلے کارڈز کے ساتھ احتجاج
احتجاج میں شریک مریضوں، ان کے اہلِ خانہ اور سماجی کارکنوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر فوری طبی انخلاء اور علاج کی فراہمی کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرین نے موجودہ انخلاء کے طریقہ کار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام انتہائی سست رفتار ہے اور صرف ایک محدود تعداد میں مریضوں کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے سنگین امراض میں مبتلا افراد کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پیچیدہ امراض اور خصوصی سرجری کی ضرورت
مظاہرین کے مطابق کینسر، دل، گردوں، اعصابی امراض اور دیگر پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو ایسی طبی سہولیات اور ادویات درکار ہیں جو اس وقت غزہ میں سرے سے دستیاب ہی نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، جنگ کے دوران گہرے زخم کھانے والے متعدد افراد کو خصوصی سرجری، بحالی (ری ہیبلیٹیشن) اور جدید علاج کی سخت ضرورت ہے۔ طبی انخلاء میں مسلسل تاخیر کے باعث ان زخمیوں کی صحت روز بروز بگڑ رہی ہے اور کئی مریض ایسے ہیں جن کی حالت صرف بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے۔
اسپتالوں پر دباؤ اور سیاسی رکاوٹیں دور کرنے کا مطالبہ
مظاہرین نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ غزہ کے مقامی اسپتال اس وقت محدود وسائل، ادویات کی شدید قلت اور طبی آلات کی کمی کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں اور وہ اتنی بڑی تعداد میں مریضوں کو سنبھالنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ایسی صورتحال میں بیرون ملک علاج ہی ان مریضوں کی زندگی بچانے کا واحد ذریعہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسانی بنیادوں پر کیے جانے والے طبی انخلاء کو ہر قسم کی سیاسی یا انتظامی رکاوٹوں سے بالا تر رکھا جانا چاہیے۔ احتجاج کے اختتام پر مظاہرین نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین انسانی بحران پر فوری توجہ دیں اور ہزاروں مریضوں کی جانیں بچانے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کریں۔